حیاتِ نور

by Other Authors

Page 372 of 831

حیاتِ نور — Page 372

جواب دیا۔اس نے حضور کو حیرت میں ڈال دیا کیونکہ اس میں انہی خیالات کا اظہار کیا گیا تھا جن کا اظہار یہ لوگ آئے دن اپنی مجالس میں کیا کرتے تھے مثلاً "حضرت صاحب کی وصیت سے یہ ظاہر نہیں ہوتا کہ خلیفہ کوئی فرد واحد ہونا ضروری ہے گو خاص صورتوں میں ایسا ہو سکتا ہے جیسا کہ اب ہے بلکہ حضرت صاحب نے انجمن کو اپنا خلیفہ بنایا ہے اور یہ ضروری نہیں کہ خلیفہ ایک ہی شخص << ہو۔مولوی محمد علی صاحب کے اس جواب سے حضرت خلیفہ مسیح اس گروہ کے عزائم کو بھانپ گئے اور سمجھ لیا کہ یہ لوگ تو سلسلہ احمدیہ میں سے نظام خلافت ہی کو مٹانا چاہتے ہیں۔چنانچہ حضور نے حکم دیا کہ مذکورہ بالا سوالات کی بہت سی تقلیں کر کے جماعت میں تقسیم کی جائیں اور لوگوں سے ان کے جوابات طلب کئے جائیں اور یہ بھی حکم دیا کہ ۳۱ جنوری 1999ء کو تمام جماعتوں کے قائمقام یہاں قادیان آ جائیں تا اس معاملہ میں سب سے مشورہ کر لیا جائے۔حضرت خلیفتہ المسح الثانی ایدہ اللہ تعالیٰ بنصرہ العزیز جو اس زمانہ میں بالعموم حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر الدین محمود احمد کہلاتے تھے ، فرماتے ہیں کہ اس وقت تک بھی مجھے اس فتنہ کا علم نہیں تھا۔حتی کہ مجھے ایک رویا ہوئی جس کا مضمون حسب ذیل ہے۔میں نے دیکھا کہ ایک مکان ہے۔اس کے دو حصے ہیں، ایک حصہ تو مکمل ہے اور دوسرا نا مکمل۔نامکمل حصہ پر چھت پڑ رہی ہے۔کڑیاں رکھی جا چکی ہیں مگر او پر تختیاں نہیں رکھی گئیں اور نہ مٹی ڈالی گئی ہے۔ان کڑیوں پر کچھ بھوسا پڑا ہے اور اس کے پاس میر محمد اسحاق صاحب، میرے چھوٹے بھائی مرزا بشیر احمد صاحب اور ایک لڑکا جو حضرت خلیفہ امسیح اول کا رشتہ دار تھا۔جس کا نام نثار احمد تھا اور جو اب فوت ہو چکا ہے۔(اللہ تعالیٰ اسے غریق رحمت کرے) کھڑے ہیں۔میر محمد اسحاق کے ہاتھ میں دیا سلائی کی ایک ڈبیہ ہے اور وہ اس میں سے دیا سلائی نکال کر اس بھوسے کو جلانا چاہتے ہیں۔میں نے ان سے کہا کہ آخر یہ بھوسہ جلایا تو جائے گا ہی۔مگر ابھی وقت نہیں۔ابھی نہ جلائیں ایسا نہ ہو بعض کڑیاں بھی ساتھ ہی جل جاویں۔اس پر وہ اس ارادے سے باز رہے۔اور میں اس جگہ سے دوسری طرف چل پڑا۔تھوڑی