حیاتِ نور — Page 354
۳۵۲ اتِ نُ کہ خلافت کے متعلق وہ اقوال جو مختلف اوقات میں حضرت خلیفۃ المسیح الاول نے بیان فرمائے، غیر مبائعین کے سامنے پیش کئے جائیں۔اس لئے ذیل میں چند حوالے درج کئے جاتے ہیں: میں خدا تعالیٰ کی قسم کھا کر کہتا ہوں کہ مجھے خدا ہی نے خلیفہ بنایا۔اب کس میں طاقت ہے کہ وہ خلافت کی ردا کو مجھ سے چھین -۲ ئے۔اللہ تعالیٰ کی مشیت نے چاہا اور اپنے مصالح سے چاہا کہ مجھے تمہارا خلیفہ بنایا۔ہزار نالائقیاں مجھ پر تھو پو۔مجھ پر نہیں خدا پر لگیں گی جس نے مجھے خلیفہ بنایا۔جس طرح ابو بکر و عمر رضی اللہ عنہما خلیفہ ہوئے اسی طرح پر خدا تعالیٰ نے مجھے مرزا صاحب کے بعد خلیفہ بنایا۔۱۸ مولوی محمد علی صاحب کہا کرتے ہیں کہ یہ پاک وجود مولوی نورالدین کا جوخلیفہ مسیح کہلایا اور جو ایک ہی خلیفہ اپنے اصلی معنوں میں کہلانے کا مستحق ہے۔19 مولوی صاحب کا مطلب اس عبارت سے یہ ہے کہ اگر خلیفتہ اسی کی بیعت کو بیعت خلافت بھی کہ لیا جائے تو یہ ضروری نہیں کہ آپ کے بعد بھی خلافت کا سلسلہ جاری مانا جائے۔مگر مولوی صاحب کی یہ بات بھی غلط ہے۔کیونکہ حضرت خلیفتہ المسیح الاول اسی تقریر میں فرماتے ہیں: خلافت کیسری کی دکان کا سوڈا واٹر نہیں ( بوسہل الحصول ہو۔ناقل ) تم اس بکھیڑے سے کچھ فائدہ نہیں اٹھا سکتے۔نہ تم کو کسی نے خلیفہ بنانا ہے اور نہ میری زندگی میں کوئی اور بن سکتا ہے۔میں جب مر جاؤں گا تو پھر وہی کھڑا ہوگا جس کو خدا چاہے گا۔اور خدا اس کو آپ کھڑا کر دے گا“۔آگے چل کر حضور فرماتے ہیں: پس جب تک خلیفہ نہیں بولتا یا خلیفے کا خلیفہ دنیا میں نہیں آتا۔ان پر رائے زنی مت کرو۔حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے مذکورہ بالا الفاظ سے صریحا معلوم ہو گیا کہ آپ اپنی بیعت کو بیعت