حیاتِ نور — Page 349
ـور ۳۴۷ بھی صدر انجمن کے سپرد کر دیے جائیں مگر حضرت اقدس نے ان کی ایک نہ مانی۔حضور کے وصال کے بعد حضرت خلیفہ امسیح الاول نے لنگر خانہ اور مہمانخانہ کا کام تو صدرانجمن کے سپر د کردیا لیکن اور کوئی کام انجمن کے سپرد نہ کیا۔مگر افسوس کہ ان لوگوں نے جماعت کو مغالطہ میں ڈالنے کے لئے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے وصال کے بعد یہ مشہور کرنا شروع کر دیا کہ حضور نے صدر انجمن کو اپنا جانشین مقرر کر کے سلسلہ کے سارے کام اس کے سپرد کر دیئے تھے۔چنانچہ حضور کے وصال کے بعد جو پہلی سالانہ رپورٹ صدر انجمن کی طرف سے شائع ہوئی اور جس کے مرتب کرنے والے جناب مولوی محمد علی صاحب تھے۔انہوں نے اسے شروع ہی ان الفاظ سے کیا کہ اگر چہ اس سلسلہ کو قائم ہوئے قریب میں سال کا عرصہ گزر چکا ہے مگر اس لحاظ سے کہ اس انجمن کی بنیاد ہمارے مولیٰ و مقتدا حضرت مسیح موعود علیہ السلام نے عین اس وقت رکھی تھی جب آپ کو اللہ تعالیٰ کی طرف سے یہ خبر لی کہ آپ کی وفات کا وقت بہت قریب آگیا ہے یعنی آخر دسمبر ۱۹۰۵ ء اور ابتدائے ۱۹۰۶ء میں۔صدر انجمن احمدیہ کی یہ تیسری سالانہ رپورٹ ہے اور اس لحاظ سے کہ اس انجمن کی پوری ذمہ داری ہر قسم کے کاروبار سلسلہ عالیہ کے متعلق اسی سال میں حضرت اقدس کی وفات کے بعد شروع ہوتی ہے اسے صدر انجمن احمدیہ کی پہلی سالانہ رپورٹ کہا جا سکتا ہے۔اس مجلس کے سپر د حضرت اقدس نے اس سلسلہ کے مکمل انتظامی کاروبارکو کیا اور اپنی زندگی میں ہی یہ کام اس مجلس سے کرایا اور اس کے تمام فیصلوں کو قطعی قرار دیا۔اور اسی سالانہ جلسہ پر جیسا کہ گزشتہ صفحات میں ذکر کیا جا چکا ہے جناب خواجہ کمال الدین صاحب نے جو تقریر کی اسے شروع ہی ان الفاظ سے کیا کہ ۲۰ / دسمبر ۱۹۰۵ء کے قریب حضرت مسیح موعود کو وحی ہوئی کہ بہت تھوڑے دن رہ گئے ہیں۔اس پر آپ نے فورا ایک وصیت شائع فرمائی اور آپ نے قریباً ہر طرح سے اپنے تئیں الگ کر لیا۔اور سب کام صدر انجمن احمدیہ کے سپر د کر دیا۔گویا آپ ہر وقت داعی اجل کو لبیک کہنے کے لئے تیار تھے اور پھر خدا نے بعض جھوٹے ملہموں کو کذاب ثابت کرنے کے لئے آپ کو دو اڑھائی سال زندہ رکھا اور اس طرح پر انہوں نے وہ کام جو زندگی کے بعد ہونا تھا اپنی زندگی میں دیکھ لیا