حیاتِ نور — Page 348
۳۴۶ ـور -6 قوم کی علمی ترقی میں کوشاں رہنا، اپنے عملی نمونہ سے غیر قوموں کے لئے باعث کشش ہونا ، اپنے پر اثر کلمات سے افراد کی زندگی میں روح پھونکنا ، اپنے مذہب کی صداقت غیر مذاہب والوں پر ثابت کرنا ، غیر مذہب والوں کو اپنے سلسلہ میں داخل کرنا۔یعنی بیعت لینا ، قوم جب مشکلات اور مصائب میں گھر جائے تو اللہ تعالیٰ کی مدداور توفیق سے اس کے خوف کو امن کی حالت سے بدلنا وغیرہ وغیرہ، صاف ظاہر ہے کہ ان سب ضروریات کے لئے کسی انجمن کا وجود کام نہیں آ سکتا۔کیونکہ انجمن نام ہے ریزولیوشن کا۔اور ریزولیوشن سے مذکورہ بالا فوائد حاصل نہیں ہو سکتے۔ان تمام ضروریات کے پورا کرنے اور ان تمام فوائد کے حصول کے لئے ایک ایسے مقدس اور برگزیدہ وجود کا ہونا لازمی ہے جو فرد واحد نہو اور حضرت مسیح موعود کا جانشین ہو۔خلاصہ اس ساری بحث کا یہ ہے کہ بیشک انجمن بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جانشین ہے مگر انہی کاموں میں جو کام الوصیت میں حضور نے اس کے سپرد کئے ہیں اور قدرت ثانیہ بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کی جانشین ہے اور اس کو وہی اختیارات حاصل ہیں جو حضرت ابو بکر کو صحابہ کرام میں حاصل تھے۔پس ہم خلافت اور انجمن دونوں کے قائل ہیں اور جس طرح حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے زمانہ میں کام ہوتا تھا۔یعنی انجمن بھی کام کرتی تھی اور خود حضرت اقدس بھی جماعت کا انتظام فرماتے تھے۔اسی طرح اب بھی ہوگا۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے زمانہ میں اس انجمن کے تجویز کئے جانے سے قبل ایک ان رجسٹر ڈ انجمن کام کر رہی تھی جس کے پر تعلیم الاسلام ہائی سکول و کالج اور رسالہ ریویو آف ریل چھر کا کام تھا۔اب جب بہشتی مقبرہ کے انتظام کے لئے یہ انجمن تجویز ہوئی اور اس کا نام رکھا گیا انجمن کار پردازان مصالح قبرستان۔تو اس خیال سے کہ مذکورہ دونوں انجمنوں میں ہم آہنگی پیدا ہوا ایک صدر انجمن احمدیہ کا قیام عمل میں لایا گیا اور اسے رجسٹرڈ کرا دیا گیا۔اور سلسلہ کے جو کام اس سے پہلے کسی انجمن کے ماتحت نہیں تھے بلکہ براہ راست حضرت اقدس کی نگرانی میں ہو رہے تھے۔جیسے لنگر خانہ و مہمان خانہ کا انتظام ، حضور کی ڈاک کا انتظام وغیرہ وغیرہ، وہ حضرت اقدس کی زندگی تک بدستور حضور کے پاس رہے۔مولوی محمد علی صاحب اور اُن کی پارٹی کے ممبران نے پوری کوشش کی کہ کسی طرح یہ کام