حیاتِ نور

by Other Authors

Page 337 of 831

حیاتِ نور — Page 337

اتِ نُـ ور ۳۳۵ فوقتا اللہ میرے دل میں ڈالے، شامل کرتا ہوں۔پھر تعلیم دینیات، دینی مدرسہ کی تعلیم میری مرضی اور منشاء کے مطابق کرنا ہوگی۔اور میں اس بوجھ کو صرف اللہ کے لئے اٹھاتا ہوں۔جس نے فرمایا۔وَلَتَكُنْ مِنْكُمُ أُمَّةٌ يَدْعُونَ إِلَى الْخَيْرِ۔یا درکھو کہ ساری خوبیاں وحدت میں ہیں۔جس کا کوئی رئیس نہیں وہ مر چکی فقط حضرت مولوی صاحب کی یہ تقریرین کر تمام حاضرین نے یک زبان ہو کر کہا کہ آپ ہماری بیعت لیں۔ہم آپ کے احکام مانیں گے۔آپ ہمارے امیر ہیں اور ہمارے مسیح کے جانشین۔اس کے بعد تمام حاضرین نے جن میں سے کافی دوست انبالہ، جالندھر، امرتسر ، لا ہور گوجرانوالہ، وزیر آباد جموں، گجرات، بٹالہ، گورداسپور وغیرہ مقامات سے بھی آئے ہوئے تھے اور جن کی تعداد بارہ سو تھی۔حضرت مولوی صاحب کو خلیفہ اسیح الاول تسلیم کر کے آپ کی بیعت کی۔بیعت کا نظارہ بھی عجیب تھا۔تمام لوگ جو مسیح موعود کی وفات کے صدمہ سے چور چور ہو رہے تھے، پرنم آنکھوں کے ساتھ دعاؤں میں مصروف تھے۔اور ہر شخص زبان حال سے یہ کہہ رہا تھا کہ خدا کرے جلد از جلد تمام جماعت خلافت حقه پر متفق و متحد ہو کر سلک وحدت میں پروئی جائے۔جب تمام لوگ بیعت کر چکے تو حضرت خلیفہ المسیح الاول رضی اللہ عنہ نے کچھ وقفہ کے بعد حضرت مرزا سلطان احمد صاحب کے باغ میں کنویں کے قریب نماز جنازہ پڑھائی۔نماز جنازہ کے دوران مسلسل گریہ وزاری کی وجہ سے لوگوں کی چھینیں نکل رہی تھیں۔جنازہ کے بعد نماز عصر پڑھی گئی۔اور پھر سب خدام نے حضرت اقدس مسیح موعود مہدی موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے نورانی چہرہ کی یکے بعد دیگرے آخری بار زیارت کی۔زیارت کے بعد حضور کے جسد مبارک کو بہشتی مقبرہ میں لے جایا گیا۔اور کوئی چھ بجے شام کے قریب سینکڑوں غمزدہ دلوں اور اشکبار آنکھوں کے ساتھ حضور کی نعش مبارک کو زیرزمین دفن کر دیا گیا۔فانا للہ وانا الیہ راجعون۔۔چشم زدن صحبت یار آخر فهد حیف ور روئے گل سیر ندیدیم و بہار آخر محمد