حیاتِ نور — Page 15
۱۵ بات کا انتظار کرتا رہا کہ شاید اب بھی یہ کسی لڑکے کو میرا گھوڑا پکڑنے کے لئے بھیجے۔جب میں نے کوئی لڑکا نہ بھیجا تو اس نے خود مجھ سے کہا کہ کسی لڑکے کو تو بھیج دیجئے جو میرا گھوڑا تھام لے۔میں نے کہا کہ جناب! آپ مدرسون کے گھر کا کھانا تو کھاتے ہی نہیں کیونکہ آپ اس کو رشوت سمجھتے ہیں تو پھر ہم لڑکے کو گھوڑا پکڑنے کے لئے کیسے کہہ دیں کیونکہ وہ تو یہاں صرف پڑھنے ہی آتے ہیں گھوڑے تھامنے کے لئے تو نہیں آتے۔پھر اگر کسی لڑکے کو گھوڑا تھا منے کے لئے کہہ دیا جائے تو آپ یہ بھی کہیں گے کہ اس کو کہیں باندھ بھی دو اور گھاس بھی ڈالا جائے تو جب آپ مدرسوں کے کھانے کو رشوت سمجھتے ہیں تو ہم آپ کے گھوڑے کو گھاس کیسے دیں۔اس کا گھوڑا بڑا شور کرتا تھا۔اتنی دیر میں اس کے ملازم بھی آگئے۔انہوں نے گھوڑے کو باندھا اور جلدی ہی روٹی وغیرہ تیار کر لی۔اس نے کہا میں امتحان لونگا۔میں لڑکوں کو امتحان دینے کے لئے تیار کر کے علیحدہ جا بیٹھا۔وہ خود ہی امتحان لیتا رہا۔بعد میں مجھے کہنے لگا کہ میں نے سُنا ہے کہ آپ بڑے لائق ہیں اور بڑی لیاقت سے آپ نے نارمل وغیرہ پاس کر کے بہت عمدہ اسناد حاصل کی ہیں۔معلوم ہوتا ہے کہ شاید اسی باعث سے آپ کو اس قدر ناز ہے۔میں نے یہ بات سن کر کہا کہ جناب ہم اس ایک بالشت کے کاغذ کو خدا نہیں سمجھتے اور ایک شخص کو کہا کہ بھائی اس بت کو ذرا نکال کر تو لاؤ۔پھر اس کے سامنے ہی منگا کر اس کو پھاڑ ڈالا اور دکھلا دیا کہ ہم کسی چیز کو خدا کا شریک نہیں مانتے۔اس شخص کو میری اس طرح اپنی اسناد کو پھاڑ ڈالنے کا رنج بھی ہوا۔جس کا اُس نے نہایت تأسف سے اظہار کیا اور کہنے لگا کہ آپ کے اس نقصان کا باعث میں ہوا ہوں۔نہ میں یہ بات کہتا اور نہ آپ کا یہ نقصان ہوتا۔لیکن حقیقت میں جب سے میں نے اس ڈیپلوما کو پھاڑا تب ہی سے میرے پاس اس قدر روپیہ آتا ہے کہ جس کی کوئی حد نہیں۔میں نے لاکھوں روپیہ کمایا ہے۔یہ عجیب بات ہے کہ آپ کے آقا حضرت مسیح موعود نے بھی نو جوانی کے زمانہ میں چار سال سیالکوٹ میں بادل نخواستہ ملازمت کی تھی اور آپ نے بھی چار سال ایک سکول میں بحیثیت ہیڈ ماسٹر