حیاتِ نور

by Other Authors

Page 320 of 831

حیاتِ نور — Page 320

ات نور ۳۱۸ معاملہ کے دوست بنایا۔اس میں چند اغراض تھے۔اول کم سے کم یہ میرے لئے میرے ایمان کے شہدا ء اللہ فی الارض ہوں کیونکہ رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم فرماتے ہیں کہ صالحین جن کی نسبت اچھی گواہی دے دیں وہ جنتی ہوتا ہے اور جس کی نسبت بری گواہی دیں وہ دوزخی ہوتا ہے۔ان شہدا ء اللہ فی الارض کی شہادت سے میں انشاء اللہ ! ارث ما ارث من اللہ۔دوم اس میل جول سے باہم تعاون علی البر والتقویٰ کے مصداق بن جاویں اور بار اور انصار ہوں۔سوم بعض ایسے خاص فضل الہی ہوتے ہیں جو بغیر اتفاق و اتحاد اور جماعت سے نہیں ملتے۔اس بات کو میں نے مد نظر رکھ کر ایک مجمع احباب بنایا ہے۔تاکہ باہمی دوستانہ تعلقات سے کوئی فیضان الہی خاص طور پر نازل ہو۔جس سے اللہ تعالیٰ راضی ہو جاوے اور ہمیں خادم اسلام و مسلمین کر دے۔چہارم حدیث شریف میں آیا ہے کہ قیامت کے دن سبعة يظلهم الله يوم لا ظل الا الله۔سات قسم کے لوگ ہوں گے جو اللہ تعالیٰ کے عرش کے سایہ کے نیچے ہوں گے۔منجملہ ان کے دو ایسے آدمی ہوں گے جو اللہ ہی کے لئے محبت کا رشتہ باندھتے ہیں جب وہ ملتے ہیں تو اسی پر ملتے ہیں اور جب الگ ہوتے ہیں تو اسی محبت الہیہ پر الگ ہوتے ہیں۔سو میں نے چاہا کہ تھا بافی اللہ والے لوگوں میں شامل ہو کر ہم سایہ عرش عظیم کے نیچے آسودگی حاصل کریں۔عرش کا سایہ اس جہاں اور اس جہاں، دنیا و آخرت ہر دو جگہ میں ظہور پاسکتا ہے۔پیجم کوئی تدبیر ایسی نکل آوے کہ عربی زبان با ہم خصوصاً احمدیوں میں اور عام طور سے تمام مسلمانوں میں رائج ہو جاوے کیونکہ صرف یہی ذریعہ ہے جس سے تمام دنیا کے مسلمان خواہ وہ کسی ملک کے باشندے ہوں با ہم سلسلہ اتحاد و اتفاق کو ترقی دے سکتے ہیں۔دوسرے صرف عربی پر ہی فہم قرآنی اور