حیاتِ نور

by Other Authors

Page 310 of 831

حیاتِ نور — Page 310

ـور ـارم پڑھنے کی ہرگز اجازت نہ دیتے۔مگر یہ تو عذر گناہ بدتر از گناہ تھا۔وہ اگر چاہتے تو مقرر کو تقریر کے دوران میں ہی روک سکتے تھے۔جماعت کے دوستوں نے گو اس تقریر کو بادل ناخواستہ سنا لیکن ان کے جگر اس گندی تحریر کو سن کر پاش پاش ہو رہے تھے۔حضرت امیر المومنین خلیفہ المسح الثانی ایدہ اللہ نصرہ العزیز کا بیان ہے کہ میری عمر اس وقت سترہ سال کی تھی۔مگر میں اس بد گوئی کو سنکر برداشت نہ کر سکا اور میں نے کہا کہ میں تو ایک منٹ کے لئے بھی اس جلسہ میں نہیں بیٹھ سکتا۔میں یہاں سے جاتا ہوں۔۔۔اکبر شاہ خان صاحب نجیب آبادی مجھے کہنے لگے کہ مولوی صاحب تو یہاں بیٹھے ہیں اور آپ اٹھ کر باہر جا رہے ہیں۔اگر یہ غیرت کا مقام ہوتا تو کیا مولوی صاحب کو غیرت نہ آتی۔میں نے کہا کچھ ہو، مجھ سے تو یہاں بیٹھا نہیں جاتا اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی نسبت یہ سخت کلامی مجھ سے برداشت نہیں ہو سکتی۔وہ کہنے لگے۔آپ کو کم سے کم نظام کی تو اتباع کرنی چاہئے۔مولوی صاحب اس وقت ہمارے لیڈر ہیں۔اس لئے جب تک وہ بیٹھے ہیں اس وقت تک نظام کی پابندی کے لحاظ سے آپ کو اٹھ کر باہر نہیں جاتا چاہئے۔ان کی یہ بات اس وقت کے لحاظ سے مجھے معقول معلوم ہوئی اور میں بیٹھ گیا۔جب یہ وفد واپس قادیان پہنچا اور حضرت اقدس کی خدمت میں اس جلسہ کی رپورٹ پیش کی تو حضور کو اس قدر رنج پہنچا کہ الفاظ میں اسے بیان کرنا مشکل ہے۔جو صحابہ اس موقعہ پر موجود تھے وہ بیان کرتے ہیں کہ حضرت اقدس کی زبان فیض ترجمان سے بار بار یہ الفاظ نکلتے تھے کہ تمہاری غیرت نے یہ کیسے برداشت کیا کہ تم رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کیخلاف گالیاں سنتے رہے۔تم لوگ اس مجلس سے فوراً اُٹھ کر باہر کیوں نہ آگئے۔پھر حضور نے بڑے جوش کے عالم میں قرآن کریم کی یہ آیت پڑھی إِذَا سَمِعْتُمْ آيَاتِ اللَّهِ يُكْفَرُبِهَا وَيُستَهُرَا بِهَا فَلَا تَقْعُدُ وَامَعَهُمْ حَتَّى يَخُوضُوا فِي حَدِيثٍ غَيْرِهِ (النساء ع) یعنی اے مومنو! جب تم سنو کہ خدا کی آیات کا دل آزار رنگ میں کفر کیا جاتا