حیاتِ نور — Page 276
ـور بنصرہ العزیز فرماتے ہیں کہ یہ کتاب روزانہ حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کو سنائی جاتی تھی۔جب دھر میال کا یہ اعتراض آیا کہ اگر حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ ٹھنڈی ہوئی تھی تو دوسروں کے لئے کیوں ٹھنڈی نہیں ہوتی۔اور اس پر حضرت خلیفہ اول کا یہ جواب سنایا گیا کہ اس جگہ ناز سے ظاہری آگ مراد نہیں بلکہ مخالفت کی آگ مراد ہے تو حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے فرمایا کہ تاویل کی کیا ضرورت ہے۔مجھے بھی خدا تعالیٰ نے ابراہیم کہا ہے اگر لوگوں کی سمجھ میں یہ بات نہیں آتی کہ حضرت ابراہیم علیہ السلام کے لئے آگ کس طرح ٹھنڈی ہوئی تو وہ مجھے آگ میں ڈال کر دیکھ لیں کہ آیا میں اس آگ میں سے سلامتی کے ساتھ نکل آتا ہوں یا نہیں“۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے اس ارشاد کی وجہ سے حضرت خلیفہ اول نے اپنی کتاب نورالدین میں یہی جواب تحریر فرمایا کہ تم ہمارے امام کو آگ میں ڈال کر دیکھ لو، یقینا اللہ تعالیٰ اپنے وعدہ کے مطابق اسے آگ سے اسی طرح محفوظ رکھے گا۔جس طرح اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کو محفوظ رکھا تھا۔حضرت اقدس نے اپنی کتاب ” مواہب الرحمن" میں جب یہ لکھا کہ یہ بات ہمارے عقائد میں داخل ہے کہ حضرت عیسی علیہ السلام بغیر باپ کے پیدا ہوئے تھے تو حضرت مولوی صاحب نے جن کا پہلے یہ عقیدہ تھا کہ حضرت عیسی کی ولادت باباپ ہوئی تھی فورا اپنے عقیدہ میں تبدیلی پیدا کر لی اور اپنی کتاب نور الدین میں صاف لکھ دیا کہ گو پہلے میرا یہی عقیدہ تھا۔لیکن اب میرا یہ عقیدہ نہیں۔حضرت نواب محمد علیخاں صاحب کے لڑکے کا علاج اکتوبر ۱۹۰۴ء حضرت نواب محمد علی خاں صاحب رئیس مالیر کوٹلہ جب ہجرت کر کے قادیان تشریف لائے تو کچھ عرصہ بعد ان کا لڑکا عبدالرحیم تپ محرقہ سے شدید طور پر بیمار ہو گیا۔حضرت مولوی صاحب کو حضرت نواب صاحب کی نیکی اور تقویٰ کی وجہ سے جو محبت تھی اس کا کسی قدر ذکر گزشتہ صفحات میں کیا جا چکا ہے۔لہذا آپ نے اس کے علاج میں پوری توجہ سے کام لیا مگر " مرض بڑھتا گیا جوں جوں دوا کی صحت کی کوئی علامت نظر نہ آئی۔بالآخر جب حضرت اقدس کی خدمت میں اطلاع کی گئی تو حضور کی دعا