حیاتِ نور

by Other Authors

Page 260 of 831

حیاتِ نور — Page 260

۲۶۰ ور نیاز مند علماء و فقر ا مہر شاہ - ۲۶ شوال ۱۳۱۷ ہجری ۵۹۰۰ اب ناظرین اندازہ لگائیں موجودہ زمانہ کے گدی نشینوں کی حالت کا اور سوچیں کہ یہ لوگ کہا تک دوسروں کو خدا تک پہنچا سکتے ہیں۔آخر جب مولوی غازی صاحب آ گئے تو انہوں نے مطلوبہ کتابوں کو تو کیا دکھلاتا تھا۔پیر صاحب کی طرف سے یہ لکھ دیا کہ ہم نے کتاب شمس الہدایہ میں ان کتابوں کی تخصیص ہر گز نہ کی تھی ان کے مثل کہہ کر تمیم کردی تھی۔اناللہ وانا الیہ راجعون۔۔مریدوں نے جب استفسارات کئے۔تو انہیں عجیب و غریب تو جیہات سے خاموش کراتے رہے۔قلمی مجاہدات پیچھے گزر چکا ہے کہ حضرت مولوی صاحب نے جب پہلی مرتبہ حضرت اقدس کی خدمت میں حاضر ہو کر عرض کیا کہ حضرت! اس سلسلہ میں مجھے کوئی مجاہدہ بتلائیے تو حضور نے فرمایا۔عیسائیت کے رد میں کوئی کتاب لکھیں۔اس پر آپ نے کتاب " فصل الخطاب للمقدمتہ اہل الکتاب" دو جلدوں میں لکھی۔اس کے ایک عرصہ بعد پھر آپ نے حضرت اقدس سے ایسا ہی سوال کیا تو حضور نے فرمایا۔آریوں کے رد میں کوئی کتاب لکھیں تب آپ نے تصدیق براہین احمدیہ لکھی۔آپ فرمایا کرتے تھے کہ ان دونوں مجاہدوں سے مجھے بڑے بڑے فائدے ہوئے۔حضرت اقدس کا قادیان سے ہجرت کرنے کا ارادہ اور آپ کی فدائیت ۱۹ء میں جب حضرت اقدس کی مخالفت بہت شدت اختیار کر گئی اور مہاجرین کو جو محض دین کی خاطر قادیان دارالامان میں دھونی رمائے بیٹھے تھے۔مخالفین خصوصاً مرزا امام الدین اور مرزا نظام الدین صاحبان کی طرف سے بہت دکھ دیا جانے لگا۔حتی کہ انہوں نے کے جنوری 19ء کو مسجد مبارک کے سامنے ایک دیوار بھی کھڑی کر دی تا نمازی مسجد مبارک میں نماز کے لئے نہ آ سکیں۔تو حضرت اقدس نے احباب جماعت کو جمع کر کے مشورہ کیا کہ ایسے حالات میں جبکہ ہمارا یہاں رہنا مشکل ہو گیا ہے اور الہام داغ ہجرت بھی ہو چکا ہے ہمیں کسی اور مقام پر ہجرت کر کے چلے جانا چاہئے۔حضور کے اس ارادے کو دیکھ کر مختلف احباب نے اپنے اپنے مقام پر چلنے کی پیشکش کی۔حضرت مولوی صاحب نے عرض کی کہ حضور بھیرہ تشریف لے چلیں۔وہاں میرے مکانات حاضر ہیں اور انشاء اللہ کسی قسم کی تکلیف نہیں ہوگی۔