حیاتِ نور

by Other Authors

Page 243 of 831

حیاتِ نور — Page 243

۲۴۳ تعالٰی نے اپنے ہاتھ میں رکھا ہوا ہے۔تاہم اللہ تعالیٰ کی غیرت جوش میں آئی اور ایک رویا میں حضرت اقدس کو دکھایا گیا کہ: خویم مولوی حکیم نورالدین صاحب ایک جگہ لیٹے ہوئے ہیں اور ان کی گود میں ایک بچہ کھیلتا ہے۔جو انہیں کا ہے اور وہ بچہ خوشرنگ خوبصورت ہے اور آنکھیں بڑی بڑی ہیں۔میں نے مولوی صاحب سے کہا کہ خدا نے بعوض محمد احمد آپ کو وہ لڑکا دیا کہ رنگ میں شکل میں، طاقت میں اس سے بدرجہا بہتر ہے اور میں دل میں کہتا ہوں کہ یہ تو اور بیوی کا لڑکا معلوم ہوتا ہے کیونکہ پہلا لڑکا تو ضعیف الخلقت، بیمارسا اور نیمجان سا تھا اور یہ تو قوی ہیکل اور خوشرنگ ہے اور پھر میرے دل میں یہ آیت گزری جس کا زبان سے سنانا یاد نہیں اور وہ یہ ہے مَانَنُسَخُ مِنْ آيَةٍ أَوْنُنُسِهَا نَاتِ بِخَيْرٍ مِنْهَا أَوْ مِثْلِهَا أَلَمْ تَعْلَمُ أَنَّ اللهَ عَلَى كُلَّ شَيْءٍ قَدِيرٌ۔* ** کا جواب اور میں جانتا ہوں کہ یہ خدا تعالیٰ کی طرف سے اس عد والدین ہے کیونکہ اس نے عیسائیوں کا حامی بن کر اسلام پر حملہ کیا اور وہ بھی بے جا اور بے ایمانی سے بھرا ہوا حملہ۔اور ایک جزو اس خواب کی رہ گئی۔میں نے دیکھا کہ اس بچہ کے بدن پر کچھ پھنسی اور ٹولوں کے مشابہ بخارات نکل رہے ہیں اور کوئی کہتا ہے کہ اس کا علاج ہلدی اور ایک اور چیز ہے۔واللہ اعلم۔اللہ تعالٰی کی یہ عجیب شان ہے کہ اس کشف کے چند سال بعد جب یہ بچہ پیدا ہوا تو کشف کے مطابق اس کے جسم پر بعض پھوڑے نکلے۔حضرت مولانا حکیم صاحب نے اپنی طبابت سے کام لے کر ان پھوڑوں کا بہتیرا علاج کیا مگر بیسود! آپ فرماتے ہیں کہ ان کے علاج میں میری طبابت گر تھی۔اے حضرت صاحب کو ٹھے والے کی نظر میں آپ کا مقام حضرت صاحب کو ٹھے والے سے اہل پنجاب بہت کم واقف ہیں۔آپ کی کفش برداری پر حضرت مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جیسے بزرگ کو بھی ناز تھا اور مولوی غلام رسول صاحب مرحوم ساکن میہاں سنگھ بھی آپ کے خدام میں سے تھے۔حضرت مولوی برہان الدین صاحب جہلمی بھی بارہا * ترجمہ = جس نشان کو بھی ہم مٹا دیں یا بھلوادیں۔اس سے بہتر یا اس جیسا دوسرانشان لاتے ہیں۔کیا تو نہیں جانتا۔کہ اللہ تعالی ہر چیز پر قادر ہے۔(سعد الله لودھیانوی)