حیاتِ نور — Page 242
ـور ۲۴۲ چه ـارم اس اثناء میں حضرت مولوی صاحب کو ایک شخص نے کہا کہ آپ کھانا ہمارے ہاں کھا لیا کریں۔توے کی روٹی ہوتی تھی۔جسے آپ بعض اوقات نمکین پانی بھگو کر کھا لیا کرتے تھے۔بھوپال کا کام ختم کرنے کے بعد آپ بعض کتب کو نقل کرنے کے لئے مصر تشریف لے گئے۔مصر میں آپ پھیری کا کام کر کے کچھ پیسے کما لیتے تھے اور انہیں سے گزر اوقات کرتے تھے۔وہاں آپ نے جامعہ ازہر میں جا کر اپنی تعلیم کو بھی مکمل کیا۔مصر میں آپ نے کسی مصری کے ساتھ گفتگو پر مشتمل عربی زبان میں ایک رسالہ بھی لکھا تھا اور مسائل فقہ کے متعلق ایک کتاب بھی تصنیف فرمائی تھی۔کچھ مدت مصر میں رہنے کے باعث واپسی پر آپ مصری مشہور ہو گئے تھے۔حضرت مولوی صاحب موصوف ۱۸۷۸ء میں پیدا ہوئے۔۱۹۰۰ ء میں بیعت کی اور ۲۷ اپریل ۱۹۵۶ء کور بوہ میں وفات پا کر بہشتی مقبرہ میں دفن ہوئے۔فاناللہ وانا الیہ راجعون۔پیدائش میاں عبد الحئی صاحب ۱۵ / فروری ۱۸۹۹ء ۱۵ / فروری ۱۸۹۹ء کو حضرت خلیفتہ المسیح الاول کے ہاں ایک بچہ پیدا ہوا جس کا نام عبد الحی رکھا گیا۔۷ار فروری کو اس کا عقیقہ ہوا۔اس بچے کی پیدائش پر احباب نے بہت خوشی کا اظہار کیا اور آپ کو مبارکبادیں دیں۔آپ نے اخبار الحکم کے ذریعہ احباب کا شکریہ ادا کرتے ہوئے لکھا: میں ان تمام احباب کا شکریہ ادا کرتا ہوں۔جنہوں نے بلحاظ محبت اس خوشی میں شرکت کی اور ان کا بھی جنہوں نے اس خوشی کا اظہار کیا۔جزا ہم اللہ احسن الجزاء آئندہ بھی وہ اپنی دعاؤں میں مجھے اور میرے بچہ کو نہ بھولیں۔الْحَمْدُ لِلَّهِ الَّذِى وَهَبَ لِي عَلَى الْكِبَرِ إِسْمَاعِيلَ۔رَبَّنَا اغْفِرْ لِي وَلِوَالِدَيَّ وَلِلْمُؤْمِنِينَ يَومَ يَقُومُ الْحِسَابِ۔رَبَّنَا هَبْ لَنَا مِنْ أَزْوَاجِنَا وَذُرِّيَاتِنَا قُرَّةَ أَعْيُنٍ وَاجْعَلْنَا لِلْمُتَّقِينَ إِمَامًا۔آمین - ۲۸ اس لڑکے کی پیدائش بھی حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کا ایک زبر دست نشان تھا۔اور وہ اس طرح کہ اس لڑکے کی پیدائش سے پانچ سال قبل آپ کا ایک لڑکا جس کا نام محمد احمد تھا اور جو بھیرہ میں پیدا ہوا تھا ، قادیان میں فوت ہوا۔تو سعد اللہ لودھیانوی نے جو سلسلہ عالیہ احمدیہ کا شدید دشمن تھا۔اس پر اعتراض کیا جس کا مفہوم یہ تھا کہ (حضرت) مرزا صاحب کی موجودگی میں تمہارے جیسے مشہور حواری کا بچہ نہیں مرنا چاہئے تھا۔گو یہ اعتراض بالکل جہالت پر مبنی تھا کیونکہ وفات حیات کا معاملہ اللہ