حیاتِ نور

by Other Authors

Page 241 of 831

حیاتِ نور — Page 241

ارم ۲۴۱ اس نصیحت سے پتہ لگتا ہے کہ آپ کے دل میں دین سکھنے اور سکھانے سے متعلق کس قدر تڑپ سے ہوتا دیکھنے اور آپ کا حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری کو کتابیں نقل کرنے کے لئے بھوپال و مصر بھیجنا حضرت مولوی نورالدین صاحب نے استاذی المکرم حضرت مولوی غلام نبی صاحب کو جو حضور کے عزیز شاگردوں میں سے تھے، بعض نایاب کتابوں کو نقل کر کے لانے کے لئے ۱۸۹۹ء میں بھوپال اور ۱۹۰۲ء میں مصر بھیجا۔حضرت مولوی غلام نبی صاحب مصری فرمایا کرتے تھے کہ : حضرت خلیفہ المسیح اول نے مجھے نورالحسن خاں صاحب خلف نواب صدیق حسن خاں صاحب کے کتب خانہ سے تفسیر شوکانی نقل کرنے کے لئے بھیجا تھا۔یہ کتاب میں نے ایک سال میں نقل کی۔یہ کتاب چھ جلدوں میں تھی۔یہ اس سال کی بات ہے جب خطبہ الہا میں لکھی گئی۔۱۹۰۲ء میں حضرت خلیفۃ المسیح اول نے لائبریری جامعہ از ہر اور گورنمنٹ مصر کی لائبریری سے کتاب شفاء العليل في مسائل القضأ والقدر و التعليل مصنفه ابن قیم نقل کرنے کے لئے بھیجا۔اس کتاب کی ضخامت سات آٹھ سو صفحات ہوگی۔ڈیڑھ سال میں یہ کتاب نقل ہوئی۔اس کے علاوہ ایک اور کتاب همع الهوامع معه شرح جامع الجوامع مصنفه امام سیوطی بھی نقل کر کے آپ کی خدمت میں بھیجا کرتا تھا۔یہ کتاب سات سو صفحات پر مشتمل تھی۔۲۷ اللہ تعالیٰ بھی عجیب مسبب الاسباب ہے، اس نے بھوپال میں حضرت مولوی غلام نبی صاحب کے گزارے کی صورت یہ پیدا کردی که نواب صدیق حسن خاں صاحب نے ایک یمنی محدث بخاری شریف کا درس دینے کے لئے منگوایا ہوا تھا۔اور لوگوں میں حدیث کا شوق پیدا کرنے کے لئے سننے والوں کو بارہ چودہ روپے ماہور فی کسی وظیفہ ملا کرتا تھا۔نواب صاحب مرحوم تو فروری ۱۸۹۰ ء میں وفات پاگئے تھے۔مگر یہ درس برابر جاری تھا۔مولوی صاحب بھی اس درس میں شامل ہو گئے اور آپ کو بھی وظیفہ ملنے لگ گیا۔ور