حیاتِ نور — Page 219
۲۱۹ معرفت سرسید کو چائے کی دعوت دی تھی۔سرسید نے اس چارہ نوشی کے سلسلہ میں ایک مکتوب حضرت حکیم الامت کو لکھا اور اس مکتوب کو خاکسار عرفانی نے حضرت حکیم الامت سے ایک تاریخی تحریر سمجھ کر لے لیا اور آج پورے ۳۷ سال کے بعد میں اسے پبلک کرتا ہوں۔جس سے حضرت حکیم الامت کی سیرت پر ایک روشنی پڑتی ہے اور یہ صاف کھل جاتا ہے کہ ہندوستان کے سب سے بڑے مسلمانوں کے سیاسی لیڈر اور تعلیمی محسن سرسید کی نگاہ میں حضرت حکیم الامت کی کیا وقعت تھی۔دو مجھے افسوس ہے کہ ایک اور قیمتی مکتوب جو سرسید نے حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کولکھا تھا جبکہ "برکات الدعا اور آئینہ کمالات اسلام ان کو بھیجی گئی تھی۔میرے پاس اس کی کاپی تھی لیکن اب ملتی نہیں۔اس میں سرسید نے لکھا تھا در پس آئینه طوطی صفتم داشته اند حمله آنچه اوستاد از لی گفت ہماں میگویم اور دعا کے لئے بھی درخواست کی تھی۔اس سلسلہ میں ایک اور امر قابل ذکر ہے۔اگر اس کو چھوڑ دیا جائے تو سرسید کے مکتوب کے ایک حصہ کی حقیقت سمجھنے میں دقت ہوگی۔سرسید چاہتے تھے کہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام ان اغراض و مقاصد کے لئے کچھ چندہ دیں اور وہ اس چندہ کو نظیر قائم کر کے جماعت احمدیہ سے چندہ لیں۔یہ تحریک حضرت حکیم الامت کے ذریعہ سے کی گئی تھی۔حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام چونکہ سرسید کی مذہبی رہنمائی کو صحیح نہیں سمجھتے تھے اور ان کی تفسیر کو حقیقت اسلام سے منافی بلکہ اس کے لئے مضر یقین کرتے تھے۔آپ نے پسند نہ فرمایا کہ اس میں شریک ہوں۔سرسید نے یہانتک خواہش کی تھی کہ چار آنے ہی چندہ دیدیں مگر حضرت جس چیز کو خدمت اسلام نہیں سمجھتے تھے اس میں آپ نے شرکت پسند نہ کی۔اس تمہید کے بعد حضرت عرفانی صاحب نے سرسید مرحوم کا خط درج کیا ہے۔جو یہ ہے: ” جناب مولا نا مخدوم و مکرم من جناب مولوی حکیم نورالدین صاحب ! میں آپ