حیاتِ نور — Page 215
۲۱۵ ہوں کہ آپ کے اس فرط شوق اور دلچسپی کو دیکھ کر جو آپ نے مضمون کے سننے میں ظاہر کی اور خصوصاً موڈریٹر صاحبان اور دیگر عمائد ورؤسا کی خاص فرمائش سے ایگزیکٹو کمیٹی نے منظور کر لیا ہے کہ حضرت مرزا صاحب کے بقیہ حصہ مضمون کے لئے وہ چوتھے دن اپنا آخری اجلاس کرے۔اب نماز مغرب کا وقت قریب آ گیا ہے اور میں زیادہ آپ کا وقت لینا نہیں چاہتا۔صرف میں آپ کو کل کا پروگرام سناتا ہوں“۔۲۵ ان الفاظ کے بعد آپ نے کل کے اجلاس کا پروگرام سُنا کر جلسہ کو برخاست فرما دیا اور حضرت اقدس کا بقیہ مضمون حضرت مولوی عبد الکریم صاحب نے ۲۹؍ دسمبر کوسنایا۔فالحمد للہ علی ذلک جلسہ کے آخر میں ایگزیکٹو کمیٹی کی درخواست پر جہاں اور موڈریٹر صاحبان نے تقریریں کیں وہاں حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب نے بھی ایک نہایت ہی روح پرور خطاب فرمایا۔آپ نے کلمہ شہادت پڑھنے کے بعد قرآن کریم کی آخری سورۃ قُلْ اَعُوذُ بِرَبِّ النَّاسِ کی تلاوت فرمائی اور پھر ان دونوں کی نہایت ہی لطیف تشریح بیان فرمائی۔افسوس ہے کہ کتاب کا حجم بڑھ جانے کا خوف آپ کی یہ پر معارف تقریر مکمل صورت میں یہاں درج کرنے سے مانع ہے۔شائقین رپورٹ جلسہ اعظم مذاہب میں ملاحظہ فرمائیں۔یہاں صرف خلاصہ پیش کیا جاسکتا ہے۔کلمہ شہادت کی غرض وغایت بیان کرتے ہوئے آپ نے فرمایا کہ خاتم الانبیاء صلی اللہ علیہ وسلم نے اپنی عبودیت کے اقرار کو کلمہ شہادت کا لازمی جزو قرار دے کر اس امر کو مد نظر رکھا کہ تا است آپ کی عبودیت کو ہر وقت تو حید کے ساتھ یا در کھے اور شرک میں گرفتار نہ ہو۔قُلْ اَعُوْذُ بِرَبِّ النَّاسِ - ملك الناس کی تشریح کرتے ہوئے فرمایا۔اللہ تعالیٰ کے وہ تین نام جن کا اس سورۃ میں ذکر ہے یعنی رب الناس، ملک الناس ، الله الناس ان کا تعلق انسان کی ان تین حالتوں سے ہے جو جسمانی ، اخلاقی ، اور روحانی حالتوں سے موسوم ہیں۔انسان کی ان تینوں حالتوں جسمانی، اخلاقی اور روحانی میں جو ذات انسان کے جسم کی مربی ، قومی کی مربی اور روح کی مربی ہے اسے اس سورۃ میں رب الناس کہا گیا ہے۔اور وہ ذات جو انسان کو اس کے جسمانی، اخلاقی ، اور روحانی افعال، اقوال،