حیاتِ نور — Page 188
ـور ١٨٨ کھیلتی ہوئی سامنے آ گئیں۔حضرت مولوی صاحب اس دوست کا ذکر سن کر جوش سے فرمانے لگے کہ مجھے تو اگر مرزا کہے کہ اپنی لڑکی کو نہالی کے لڑکے کو دیدو۔تو میں بغیر کسی انقباض کے فورا دے دوں گا۔یہ کلمہ سخت عشق و محبت کا تھا۔مگر نتیجہ دیکھ لو کہ بالآخر وہی لڑکی حضور علیہ السلام کی بہو بنی اور اس شخص کی زوجیت میں آئی جو خود حضرت مسیح موعود کا حسن و احسان میں نظیر ہے۔جے محترم جناب حکیم محمد صدیق صاحب آف میانی فرماتے ہیں کہ ایک دفعہ جب آپ مطب میں بیٹھے تھے۔اردگرد لوگوں کا حلقہ تھا۔ایک شخص نے آ کر کہا کہ مولوی صاحب ! حضور یاد فرماتے ہیں۔یہ سنتے ہی اس طرح گھبراہٹ کے ساتھ اُٹھے کہ میگھڑی باندھتے جاتے تھے اور جوتا گھٹتے جاتے تھے۔گویا دل میں یہ تھا کہ حضور کے حکم کی تعمیل میں دیر نہ ہو۔پھر جب خلیفہ ہو گئے تو اکثر فرمایا کرتے تھے کہ تم جانتے ہو نور الدین کا یہاں ایک معشوق ہوتا تھا جسے مرزا کہتے تھے۔نور الدین اس کے پیچھے یوں دیوانہ وار پھرا کرتا تھا کہ اسے اپنے جوتے اور پگڑی کا بھی ہوش نہیں ہوا کرتا تھا۔حضرت صاحبزادہ مرزا بشیر احمد صاحب فرماتے ہیں کہ : جن دنوں ہمارا چھوٹا بھائی مبارک احمد بیمار تھا۔ایک دفعہ حضرت مسیح موعود نے حضرت مولوی نورالدین صاحب (خلیفہ اول) کو اس کے دیکھنے کے لئے گھر میں بلایا۔اس وقت آپ صحن میں ایک چارپائی پر تشریف رکھتے تھے اور صحن میں کوئی فرش وغیرہ نہیں تھا۔مولوی صاحب آتے ہی آپ کی چار پائی کے پاس زمین پر بیٹھ گئے۔حضرت نے فرمایا۔مولوی صاحب چار پائی پر بیٹھیں۔مولوی صاحب نے عرض کیا۔حضور! میں بیٹھا ہوں اور کچھ اونچے ہو گئے اور ہاتھ چار پائی پر رکھ لیا مگر حضرت صاحب نے جب دوبارہ کہا تو مولوی صاحب اٹھ کر چار پانی کے ایک کنارہ پر پائنتی کے اوپر بیٹھ گئے۔اس روایت کے نیچے حضرت صاحبزادہ صاحب کا نوٹ بایں الفاظ درج ہے کہ مولوی صاحب میں اطاعت اور ادب کا مادہ کمال درجہ پر تھا۔نہالی ایک مہترانی تھی جو حضرت صاحب کے گھر میں کماتی تھی۔