حیاتِ نور — Page 176
129 مہاراج کی خیر خواہی ریاستوں میں راجوں مہاراجوں اور نوابوں کے کئی شرکاء ان کے سخت مخالف ہوتے تھے وہ چاہتے تھے کہ انہیں کوئی شدید نقصان پہنچے یا مر جائیں تو ہم ملک کی دولت سے اپنے ہاتھ رنگیں۔چنانچہ اس مقصد کو حاصل کرنے کے لئے وہ کئی لوگوں کو بھاری بھاری رقمیں انعام کا وعدہ دے کر اپنا آلہ کار بناتے تھے۔اس قسم کے لوگوں کے دو ایجنٹ کے بعد دیگرے آپ کی خدمت میں بھی حاضر ہوئے۔ایک نے کہا کہ مہاراج کے متعلق یہ یہ باتیں ہیں۔ذرا ان کا پتہ لگا دیں۔اس خدمت کے عوض میں ہم آپ کو دس ہزار روپیہ دلائیں گے۔اس کے جواب میں آپ نے فرمایا کہ: مجھ کو ایسی باتوں سے دلچسپی نہیں۔دوسرے کو آپ نے فرمایا کہ: رئیس مجھ پر بھروسہ کرتا ہے۔میں ہرگز اس کی مخالفت میں کوئی کام نہ کروں گا۔چنانچہ وہ بھی مایوس ہو کر چلا گیا۔ظاہر ہے کہ اس قسم کے وفادار اور بے لوث خدمات سرانجام دینے والے لوگ ان لوگوں کو کہاں نصیب ہو سکتے تھے؟ جزات آمیز در گزر ایک شاگرد کو آپ نے سو روپیہ ماہوار پر نوکر کروایا مگر وہ اس لئے آپ کا مخالف ہو گیا کہ یہ اگر چاہتے تو مجھ کو سو سے زیادہ کا نوکر کروا سکتے تھے۔چنانچہ اس نے پندرہ با اثر اشخاص کو اپنے ساتھ ملالیا اور وہ سارے کے سارے آپ کی مخالفت کرنے اور آپ کے خلاف منصو بہ بازی میں لگ گئے۔آپ نے ایک دن ان سب کی ضیافت کی۔جب وہ مکان کے اندر آ گئے تو آپ نے اپنے ملازم کو حکم دیا کہ تمام دروازے بند کر دو۔ملازم کی یہ حرکت دیکھ کر وہ ڈر گئے اور سمجھے کہ اب ہماری خیر نہیں۔بہت سے راجپوت اور پٹھان ان کے معتقد ہیں وہ ضرور کہیں چھپ کر بیٹھے ہیں اور یہ ہمیں ان سے پٹوائیں گے۔آپ نے ان سب کو مخاطب کر کے کہا کہ تم ڈرومت۔ہم نے تم کو گرفتار تو کر ہی لیا ہے لیکن تمہاری جانوں کو زیاں نہیں پہنچے گا۔اس کے بعد آپ نے ان سب میں سے جو بڑا آدمی تھا۔اسے مخاطب کر کے پوچھا کہ اچھا تو شریک ہے یا نہیں“۔اس نے لرزتے ہوئے کہا کہ مجھ کو تو فلاں شخص نے یہ باتیں کہہ کر شامل کیا۔جب اس شخص سے پوچھا گیا۔تو اس نے کسی اور آدمی کا نام لے لیا۔آخر اسی طرح دو