حیاتِ نور — Page 173
کہ آپ مال و دولت کے پرستار نہیں خالص اہل اللہ میں سے ہیں۔چنانچہ ایک مرتبہ انہوں نے تمام درباریوں کو مخاطب کر کے کہا کہ : " تم سب اپنی اپنی غرض کو آ کر میرے پاس جمع ہو گئے ہو اور میری خوشامد کرتے ہو۔لیکن صرف یہ شخص ( آپ کی طرف اشارہ کر کے ) ہے جس کو میں نے اپنی غرض سے بلایا ہے اور مجھے کو اس کی خوشامد کرنی پڑتی ہے۔مہاراجہ صاحب کے یہ الفاظ بتاتے ہیں کہ انہیں آپ کا کس قدر اعزاز و اکرام منظور تھا۔دوران ملازمت میں آپ کو کئی ایسے مواقع پیش آئے جبکہ آپ نے مذہبی مسائل کے سمجھانے میں شہر بھر بھی مہاراجہ کی عظمت کا لحاظ نہیں کیا۔چنانچہ ایسے ہی مواقع میں سے ایک موقعہ کا ذکر کرتے ہوئے آپ فرماتے ہیں: ایک مرتبہ مہاراجہ کشمیر نے مجھ سے کہا کہ کیوں مولوی جی !تم ہم کو تو کہتے ہو کہ تم سو ر کھاتے ہو اس لئے بیجا حملہ کر بیٹھتے ہو۔بھلا یہ تو بتلاؤ کہ انگریز بھی سو رکھاتے ہیں وہ کیوں اس طرح ناعاقبت اندیشی سے حملہ نہیں کرتے۔میں نے کہا وہ ساتھ ہی گائے کا گوشت بھی کھاتے رہتے ہیں اس سے اصلاح ہو جاتی ہے۔سنگر خاموش ہی ہو گئے اور پھر دو برس تک مجھ سے کوئی مذہبی مباحثہ نہیں کیا۔" باوجوداس خودداری اور حق گوئی کے آپ میں تکبر اور غرور نام کو بھی نہ تھا۔آپ سادگی اور انکسار کا مجسمہ تھے۔گزشتہ صدی میں سینکڑوں روپیہ ماہوار کوئی معمولی تنخواہ نہیں تھی۔علاوہ اس تنخواہ کے آپ کو بڑی بڑی گرانقدر رقمیں بطور انعام بھی ملا کرتی تھیں۔مگر آپ فرماتے ہیں کہ : دو بعض اس اس روپیہ ماہوار کے طبیب مجھ سے اول بیٹھنے کی کوشش کرتے اور میں ان کو آگے بیٹھنے دیتا اور بہت خوش ہوتا “۔مباحثات سے اجتناب آپ فرماتے ہیں: د مجھ کو کسی سے خود کوشش کر کے مباحثہ کرنے کی نہ کبھی خواہش ہو کی اور نہاب ہے۔ہاں! جب کوئی مجبور ہی کر دے اور گلے ہی آ پڑے تو پھر خدا تعالیٰ سے دعا مانگ کر مباحثہ کیا اور ہمیشہ کامیاب ہوا۔تم لوگ اس کا تجربہ کر کے دیکھو۔ہاں انبیاء علیہم السلام معذور ہوتے ہیں کیونکہ مامور ہوتے ہیں۔30 د