حیاتِ نور — Page 172
۱۷۲ آپ کی سادگی محترم ڈاکٹر عبید اللہ خاں صاحب بٹالوی فرماتے ہیں کہ ایک مرتبہ حضرت مولوی صاحب کی غیر معمولی عظمت سے حسد کر کے ریاست کے درباریوں نے مہاراجہ صاحب سے نوٹیفیکیشن کرایا کہ ہر درباری کالباس کم از کم اس کی ایک ماہ کی تنخواہ کے برابر ہونا چاہئے۔چنانچہ اور درباریوں نے تو اس پر عمل کیا۔لیکن حضرت مولوی صاحب پر اس کا کچھ بھی اثر نہ ہوا۔کچھ دنوں کے بعد کسی نے رئیس کے پاس یہ شکایت کی کہ حضرت مولوی صاحب نے آپ کے حکم کی کوئی پروانہیں کی۔مہاراجہ اس شکایت کننده پرسخت ناراض ہوئے اور خفگی کے لہجہ میں کہا کہ ان کا بناؤ سنگار تو مناسب ہی نہیں کیونکہ انہیں ہر وقت اندرون خانہ مستورات کے پاس جانا ہوتا ہے۔آپ کی خودداری آپ کی خودداری کا یہ عالم تھا کہ آپ نے کبھی کسی بڑے سے بڑے دنیا دار انسان کے آگے جھکنا برداشت نہیں کیا۔چنانچہ کشمیر میں آپ پندرہ سولہ برس مہاراجہ کشمیر کی ملازمت میں رہے۔اس مدت میں بیسیوں ایسے مواقع پیش آسکتے تھے جبکہ آپ کو ریاست کے دستور کے مطابق مہاراجہ کو نذر دکھلانا پڑتی مگر اللہ تعالیٰ کچھ ایسے ہی سامان کرتا رہا کہ آپ کو کوئی ایسا موقعہ پیش نہیں آیا۔صرف ایک مرتبہ ایسا اتفاق ہوا کہ تمام اہل دربار کو نذریں دکھلانا لازمی تھا۔آپ نے بھی بادل ناخواستہ نذر دکھلانے کا عزم کیا۔آپ فرماتے ہیں: روپیہ ہاتھ میں لے کر جب میں نذر دکھلانے والا تھا ویسے ہی بلا کسی خیال کے میری نظر روپیہ پر پڑی۔میں تھیلی میں روپیہ لئے ہوئے خود ہی جب اس کو دیکھ رہا تھا تو مہاراج نے مجھ کو آواز دے کر کہا کہ مولوی صاحب ! آپ نذر دکھلاتے ہیں یا روپیہ دیکھتے ہیں میں نے بیساختہ کہا کہ مہاراج! روپیہ کو دیکھتا ہوں جس کی وجہ سے مجھے کو نذر دکھلانے کی ضرورت پیش آئی۔یہ سن کر فور امہاراج نے کہا کہ ہاں! آپ کو نذر دکھلانے کی ضرورت نہیں۔آپ تو نذرد کھلانے سے آزاد ہیں۔سب جنس پڑے اور اس طرح بات ہنسی میں مل گئی اور مجھ کو نذر بھی نہ دکھانی پڑی۔۔۔اس واقعہ سے پتہ چلتا ہے کہ آپ بڑے خود دار انسان تھے۔اور مہاراجہ کو بھی اس بات کا علم تھا رو