حیاتِ نور

by Other Authors

Page 171 of 831

حیاتِ نور — Page 171

چنانچہ ایسا ہی ہوا۔مہاراجہ کشمیر کا آپ کو اذان دینے سے لطیف پیرایہ میں روکنا حضرت مولوی صاحب جب شروع شروع میں کشمیر گئے تو چونکہ آپ کو ہمیشہ اذان دے کر نماز پڑھنے کی عادت تھی۔اس لئے ایک روز جب آپ نے خوب زور سے فجر کی اذان کہی۔تو چونکہ آپ کی رہائش گاہ کے ارد گرد خالص ہندوؤں کی آبادی تھی۔مہاراجہ کشمیر کے محلات بھی نزدیک ہی تھے۔لہذا دن کے وقت مہا راجہ صاحب نے آپ سے پوچھا کہ آج صبح اذان کس نے دی تھی ؟" آپ نے فرمایا ” میں نے دی تھی۔مہاراجہ نے کہا۔مولوی صاحب ! جب آپ نے دو مرتبہ حی علی الصلوۃ کہا کہ نماز کے لئے آؤ۔نماز کے لئے آؤ ! تو چونکہ کوئی شخص اس محلہ میں نماز کے لئے نہیں آسکتا تھا۔اس لئے مجھے بڑا ہی ڈر معلوم ہوا کہ یہ لوگ حی علی الصلوۃ کی تعمیل نہیں کرتے۔کہیں سب کے سب غارت نہ ہو جائیں میں چونکہ اس ملک کا مالک ہوں اس لئے میں بڑا خوفزدہ بیٹھا رہا۔مہاراجہ کا مطلب اس گفتگو سے یہ تھا کہ آئندہ اس محلہ میں اذان نہ کہیں مگر ایک لطیف پیرایہ میں بات کہی۔چنانچہ آپ نے مہاراجہ صاحب کی اس خواہش کی تعمیل میں کسی اور محلہ میں رہائش اختیار کر لی۔مگر اذان نہیں چھوڑی۔کونسا مذہب اختیار کیا جائے ایک مرتبہ آپ سے مہاراجہ کشمیر نے پوچھا کہ مولوی صاحب ! بچے مذہب کی شناخت کا بھی کوئی معیار ہے؟ آپ نے فرمایا کہ آپ ہی فرما ئیں۔مہاراجہ نے کہا کہ ہمارے نزدیک تو مذہب وہ سچا ہے جو پراچین (پرانا۔قدیم) ہو اور آپ کا مذہب تو صرف بارہ سو برس سے ہے۔آپ نے فرمایا: ”ہمارے ہاں فبهداهم اقتدہ آیا ہے یعنی جو پرانا اور اچھا ہو۔اس کی پیروی کرو۔یہ سنکر مہاراجہ نے کہا کہ رامچندرجی سب سے پرانے ہیں۔ہم ان کو مانتے ہیں۔میں نے کہا۔رام چندر کس کی پرستش کرتے تھے؟ کہا کہ وشن کی۔میں نے کہا وہ کس کی؟ کہا وہ زور کی۔میں نے عرض کیا۔اور وہ کس کی؟ تو کہا وہ برہما کی۔میں نے کہا۔برہما کس کی؟ کہا۔برہما کیوں ایشور کی۔میں نے کہا کہ بس وہی اسلام ہے کیا معنے ہم وحدہ لاشریک مالک کی پرستش کرتے ہیں۔3