حیاتِ نور — Page 157
۱۵۷ سیالکوٹ اور کپورتھلہ سے آئے اور حضرت مولوی صاحب تو ۱۳ یا ۱۴ار دسمبر ہی کو تشریف لے آئے تھے اور آخر دسمبر تک مقیم رہے۔چنانچہ حضرت اقدس نے جو خط حضرت چودھری رستم علی صاحب کے نام ۱۹ را گست ۱۸۸۹ء کو لکھا۔اس میں تحریر فرمایا کہ آپ کی انتظار تھی۔خدا جانے کیا سبب ہوا۔چھ سات روز سے اخویم مولوی حکیم نورالدین صاحب تشریف رکھتے ہیں۔شاید چھ سات روز تک اور بھی رہیں۔اگر آپ ان دنوں آ جاویں تو مولوی صاحب کی ملاقات بھی ہو جاوے“۔دعوی مسیحیت اور تیاری کتاب «فتح اسلام کی حضرت مولوی صاحب کو اطلاع حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام نے جب اس امر کا اعلان کیا کہ حضرت مسیح ناصری علیہ السلام وفات پاچکے ہیں اور آنے والے مسیح موعود آپ ہی ہیں تو اس دعوی کی اشاعت کے لئے ایک کتاب بنام "فتح اسلام بھی تحریر فرمائی۔جب حضور نے اس امر کی اطلاع حضرت مولوی حکیم نورالدین صاحب کو دی تو انہوں نے صدق دل کے ساتھ آپ کے اس دعوئی کو قبول کیا۔اور لکھا کہ کتاب "فتح اسلام کا جس قدر حصہ طبع ہو چکا ہو۔ارسال فرما دیں۔مگر حضرت اقدس نے قانون مطابع کی رعایت رکھتے ہوئے ۲۰ دسمبر ۱۸۹۰ء کو اطلاع دی کہ چونکہ کتاب فتح اسلام کسی قدر بڑھ گئی ہے اور مطبع امرتسر میں چھپ رہی ہے۔اس لئے جب تک چھپ نہ جائے ، روانہ نہیں ہوسکتی۔امید کہ میں روز تک چھپ کر آ جاوے گی۔چنانچہ جب یہ کتاب ۱۸۹ء کی پہلی سہ ماہی میں شائع ہوئی تو فورا حضرت مولوی صاحب کی خدمت میں بھیج دی گئی۔حضرت اقدس کی صداقت پر یقین ابھی آپ کی خدمت میں کتاب فتح اسلام نہیں پہنچی تھی کہ کسی مخالف کے پاس کسی نہ کسی طرح پہنچ گئی۔اس نے اپنے ساتھیوں سے کہا کہ دیکھو! اب میں مولا نا حکیم نورالدین کو (حضرت) مرزا صاحب سے علیحدہ کئے دیتا ہوں چنانچہ وہ آپ کے پاس گیا اور کہنے لگا کہ مولوی صاحب! کیا نبی کریم صلی اللہ علیہ وسلم کے بعد کوئی نبی ہو سکتا ہے؟ آپ نے فرمایا نہیں ! اس نے کہا کہ اگر کوئی نبوت کا دعوئی