حیاتِ نور — Page 151
ـور پاؤں۔سو یہ آیت مجھے ملی۔و يغفر مادون ذلك الآية ۱۵۱ یہ مسئلہ بظاہر بڑا نازک ہے۔دیکھا جاتا ہے کہ جس مرح مرد کی غیرت نہیں چاہتی کہ اس کی عورت اس میں اور اس کے غیر میں شریک ہو اسی طرح عورت کی غیرت بھی نہیں چاہتی کہ اس کا مرد اس میں اور اس کے غیر میں بٹ جاوے۔مگر میں خوب جانتا ہوں کہ خدا تعالیٰ کی تعلیم میں نقص نہیں ہے اور نہ وہ خواص فطرت کے برخلاف ہے۔اس میں پوری تحقیق اور کامل غیرت ہے جس کا انفطاک واقعی لا علاج ہے۔مگر عورت کی غیرت کامل نہیں۔بالکل مشتبہ اور زوال پذیر ہے۔اس میں وہ نکتہ جو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے ام سلمہ رضی اللہ عنہا کو فرمایا تھا۔نہایت معرفت بخش ہے کیونکہ جب حضرت ام سلمہ رضی اللہ عنہا نے آنحضرت کی درخواست نکاح پر عذر کیا کہ آپ کی بہت بیویاں ہیں اور آئندہ بھی خیال ہے اور میں ایک عورت غیر تمند ہوں جو دوسری بیوی کو دیکھ نہیں سکتی تو آنحضرت صلی اللہ علیہ وسلم نے فرمایا کہ میں تیرے لئے دعا کروں گا۔تا خدا تعالٰی تیری یہ غیرت دور کر دے اور صبر بخشے۔سو آپ بھی دعا میں مشغول رہیں۔نئی بیوی کی دلجوئی نہایت ضروری ہے کہ وہ مہمان کی طرح ہے۔مناسب ہے کہ آپ کے اخلاق اس سے اول درجہ کے ہوں اور ان سے بے تکلف مخالطت اور محبت کریں اور اللہ جلشانہ سے چاہیں کہ اپنے فضل و کرم سے ان سے آپ کی صافی محبت و تعشق پیدا کر دے کہ یہ سب امور اللہ جل شانہ کے اختیار میں ہیں۔اب اس نکاح سے گویا آپ کی نئی زندگی شروع ہوئی ہے۔اور چونکہ انسان ہمیشہ کے لئے دنیا میں نہیں آیا۔اس لئے نسلی برکتوں کے ظہور کے لئے اب اس پیوند پر امیدیں ہیں۔خدا تعالیٰ آپ کے لئے یہ بہت مبارک کرے۔میں نے اس محلہ میں خاص صاحب اسرار و واقف لوگوں سے اس لڑکی کی بہت تعریف سنی ہے کہ بالطبع صالحہ عفیفہ و جامع فضائل محمودہ ہے۔اس کی تربیت و تعلیم کے لئے بھی توجہ رکھیں اور آپ پڑھایا کریں کہ اس کی استعداد میں نہایت عمدہ معلوم ہوتی ہیں اور اللہ جلشانہ کا نہایت فضل اور احسان ہے کہ یہ جوڑہ بہم پہنچایا۔ورنہ اس