حیاتِ نور

by Other Authors

Page 148 of 831

حیاتِ نور — Page 148

۱۴۸ ایک لمبا اور دردناک خط لکھا جس کے پڑھنے سے رونا آتا تھا۔اور حج سے آتے وقت راہ میں ہی بیمار ہو گئے اور گھر آتے ہی فوت ہو گئے۔انا للہ وانا الیہ راجعون۔اس میں کچھ شک نہیں کہ منشی صاحب علاوہ اپنی ظاہری علمیت و خوش تقریری و وجاہت کے جو خداداد انہیں حاصل تھیں ، مومن صادق اور صالح آدمی تھے جو دنیا میں کم پائے جاتے ہیں۔چونکہ وہ عالی خیال اور صوفی تھے اس لئے ان میں تعصب نہیں تھا۔میری نسبت وہ خوب جانتے تھے کہ یہ حنفی تقلید پر قائم نہیں ہیں اور نہ اسے پسند کرتے ہیں لیکن پھر بھی یہ خیال انہیں محبت و اخلاص سے نہیں روکتا تھا۔غرض کچھ مختصر حال منشی احمد جان صاحب مرحوم کا یہ ہے اور لڑکی کا بھائی صاحبزادہ افتخار احمد صاحب بھی نوجوان صالح ہے جو اپنے والد مرحوم کے ساتھ حج بھی کر آئے ہیں۔اب دو باتیں تدبیر طلب ہیں۔اول یہ کہ ان کی حنفیت کے سوال کا کیا جواب دیا جائے۔دوسرے اگر اسی ربط پر رضامندی فریقین کی ہو جاوے تو لڑکی کے ظاہری حلیہ سے بھی کسی طور سے اطلاع ہو جانی چاہئے۔بہتر تو بچشم خود دیکھ لینا ہوتا ہے مگر آج کل کی پردہ داری میں یہ بڑی قباحت ہے کہ وہ اس بات پر راضی نہیں ہوتے۔مجھ سے میر عباس علی صاحب نے اپنے سوالات مستفسرہ خط کا بہت جلد جواب طلب کیا ہے اس لئے مکلف ہوں کہ جہاں تک ممکن ہو جلد تر جواب ارسال فرما دیں۔ابھی میں نے تصریح سے آپ کا نام ان پر ظاہر نہیں کیا۔جواب آنے پر ظاہر کروں گا“۔(۲۳ جنوری ۱۸۸۹ء) سب سے اہم بات جس کا جواب دینا حضرت مولوی صاحب کے لئے مشکل تھا وہ حنفی کہلانے کا اقرار تھا جب اس کے متعلق آپ نے حضرت اقدس سے استفسار کیا تو حضور نے فرمایا چونکہ حضرت منشی احمد جان صاحب کے گھر میں اختلافی صورت پر تامل اور تردد ظاہر کیا گیا ہے اس لئے آپ اشتہار لکھ کر بھیجیں لکھ دیں کہ میں حنفی ہوں۔حضرت مولوی صاحب اس واقعہ کا ذکر کرتے ہوئے فرماتے ہیں: بھی امام صاحب بیعت نہ لیتے تھے۔ان دنوں میں ایک بار مجھ سے کہا کہ تم اشتہار دیدو کہ میں حنفی ہوں۔میں نے اشتہار لکھ کر بھیجدیا۔جس کا عنوان یہ تھا بجے سجادہ رنگیں کن گرت پیر مغاں گوید