حیاتِ نور — Page 142
اوائل ۱۸۸۸ء ۱۴۲ طور مختلف زبانوں کے علماء تیار کر کے خدمات دینیہ کا منصوبہ خدمت دین کا جوش تو آپ کے اندر شروع ہی سے تھا۔اب حضرت اقدس کے ساتھ تعلقات ہو جانے کے باعث اس جوش میں مزید ترقی ہوئی۔اور آپ نے ۱۸۸۶ء میں چاہا کہ اپنے خرچ پر بارہ آدمیوں کو مختلف زبانوں کی اعلیٰ تعلیم دلوا کر زمانے کے جدید تقاضوں کے مطابق اُن سے اشاعت اسلام کا کام لیا جائے۔چنانچہ آپ نے یہ تجویز کی کہ ہیں: عربی کے دو عالم ، عبرتی کے دو ماہر، یونانی جاننے والے دو، سنسکرت جاننے والے دو، انگریز کی دان دو عربی۔انگریز کی جانے والے دو۔تیار کئے جائیں اور انہیں دوران تعلیم میں پچاس روپے ماہوار وظیفہ دیا جائے۔آپ فرماتے ” پھر اسی خیال پر دو مولوی بڑے عربی دان اور میرے نزدیک بہت ٹھیک عبری پڑھنے کے لئے پہلے چریا کوٹ پھر کلکتہ بھیجے اور وہ دو برس میں بڑے کامل عبری دان بن کر واپس آئے۔اور دو علیگڑھ کے کالج میں بھیجے اور سید احمد خاں کے کہنے پر ان کو ماہانہ تمہیں روپے کے قریب دیتے رہے۔غرض قصہ مختصر جب یہ صاحبان میرے پاس تشریف لائے تو میں نے ایک جلسہ کیا اور اپنے خیال میں اہل الرائے احباب کو جمع کیا اور پوچھا کہ سر دست کس طرح کام شروع کیا جائے تو سب ساکت ہوئے۔آخر میرے اصرار پر وہ عبری دان بولے آپ کو جنون ہے۔ہم تو طب پڑھ کر روپیہ جمع کریں گے۔اور بس کہاں کا بکھیڑا امذہب- مذہب یا قوم ! یا قوم! علیگڑھ والے بولے۔ہم نے پختہ ارادہ کر لیا ہے کہ اب پلیڈری کرینگے تو روپیہ جمع کر کے بیرسٹری کے لئے ولایت جائیں گے۔اب گھبرا کر میرا کچھ کہنے کا ارادہ تھا کہ ایک پیر صاحب بولے۔اٹھیئے ، حضرت حافظ مختار احمد صاحب شاہجہانپوری فرماتے ہیں کہ چریا کوٹ میں عبرانی کے ماہر، مولانا شبلی کے استاذ مولانا عنایت رسول تھے۔