حیاتِ نور

by Other Authors

Page 141 of 831

حیاتِ نور — Page 141

حضرت مفتی محمد صادق صاحب نے اخبار بدر میں لکھا ہے کہ یہ واقعہ اوائل ۱۸۸۸ء کا ہے جبکہ حضرت مفتی صاحب کے والد مرحوم یہ محسوس کر کے کہ ان پر پادریوں کی باتوں کا اثر ہے انہیں دینی تربیت کے حصول کے لئے حضرت مولوی صاحب کے پاس جموں لے گئے تھے۔حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں: میں جب جموں میں پہنچا۔آپ کی نشست گاہ اور مطلب ان دنوں میں شیخ فتح محمد صاحب کے مکان پر تھا۔جس میں مختصر سے دو کمرے اور سامنے ایک بڑا لمبا پلیٹ فارم تھا اور زنانہ مکان تھوڑے فاصلہ پر محلہ کے اندر مسجد کے پاس تھا۔آپ انہی ایام میں ایک سخت بیماری بخار اور شدید سر درد سے شفایاب ہوئے تھے اور کمزوری کے آثار ہنوز آپ کے چہرے پر نمودار تھے۔چہرے کا رنگ زردی مائل ہو رہا تھا، اس بیماری کے دوران میں حضرت مرزا صاحب مرحوم و مغفور علیہ الصلوۃ والسلام آپ کی بیمار پرسی کے واسطے جموں تشریف لے گئے تھے اور تین دن وہاں رہے تھے اور ( حضرت اقدس نے) پہلے سے آپ کو اطلاع دی تھی کہ مجھے بشارت دی گئی ہے کہ میرے وہاں پہنچنے کے وقت آپ کو آرام ہوگا اور ایسا ہی ہوا۔آگے چل کر حضرت مفتی صاحب فرماتے ہیں: حضرت علیہ السلام میرے جموں پہنچنے سے قبل وہاں سے واپس تشریف لے آئے تھے اس وقت میں نے اُن کو نہ دیکھا کیونکہ میرا دیکھنا اور وقت کے لئے مقدر تھا لیکن پہلے حضرت مسیح موعود کا وہاں سے ہو آنا اور پھر انہیں ایام میں میرا بھی وہاں پہنچنا اس امر کی طرف اشارہ کرتا تھا کہ ایک دن آنے والا ہے کہ میں نورالدین کے طفیل مسیح تک پہنچنے والا ہوں۔کیونکہ ان ایام میں میرے دل میں سیح کی محبت جوش زن تھی۔میرے مخلصانہ جوش پر رحم کر کے خدا تعالیٰ کی دشیری مجھے مسیح صادق کے سایہ میں لانا چاہتی تھی۔۲۹ حضرت مولوی صاحب فر ماتے ہیں: وہاں ( یعنی جموں میں: ناقل ) حضرت صاحب نے ایک جلسہ میں فرمایا تھا کہ انبیاء علیہم السلام بھی ناقتہ اللہ ہوتے ہیں بھلا ان کو کوئی چھیڑ کر تو دیکھئے۔۳۰