حیاتِ نور — Page 135
۱۳۵ نسبت بھی اور آپس میں بھی بدظنی بہت پھیل جاتی ہے۔جس کا نتیجہ یہ ہوتا ہے کہ وہ لوگ دل لگا کر کام نہیں کرتے۔سوم: اُمرا اور وزرا اپنی ناپائداری کو دیکھ کر طبع کا دامن بہت دراز کر لیتے ہیں۔چہارم: چوتھا نقص یہ ہوتا ہے کہ گورنمنٹ کے ایجنٹوں اور ریزیڈنٹوں کے کانوں میں عجیب در عجیب متضاد با تیں پہنچتی ہیں جس سے ان کو رئیس سے بڑا تنفر پیدا ہو جاتا ہے۔ہر شخص کے لئے ایک واعظ آپ کے حالات کا مطالعہ کرنے والا ہر شخص اس امر پر بخوبی آگاہ ہو سکتا ہے کہ آپ نے حق بات کہنے میں کسی بڑے سے بڑے دنیوی وجاہت رکھنے والے انسان کی بھی پرواہ نہیں کی۔ایسے ہی بڑے لوگوں میں سے ایک شخص میاں لعل دین صاحب بھی تھے۔وہ کسی وجہ سے آپ سے ناراض بھی تھے مگر آپ اس امر کی پرواہ نہ کر کے اُن کے مکان پر تشریف لے گئے۔ان کا مکان حاجتمندوں سے بھرا پڑا تھا۔جب ہجوم کم ہوا تو آپ نے آگے بڑھ کر ان سے کہا کہ آپ کا جاہ و جلال ایسا ہے کہ عام علماء تو آپ کو کچھ کہ نہیں سکتے اور ہر آدمی کیلئے ایک واعظ کی ضرورت ہے۔میں اس واسطے آیا ہوں کہ آپ سے دریافت کروں کہ آپ کا واعظ کون ہے؟ اس پر انہوں نے کہا کہ میں ان پڑھ آدمی ہوں ، بار یک باتیں میں سمجھ نہیں سکتا۔میں نے کہا ہر آباد شہر کے قریب کوئی اجڑا ہوا شہر ضرور ہوتا ہے اور ہر ایک امیر کے مکان کے قریب حوادث زمانہ کے مارے ہوئے امیر کا ویران گھر ضرور ہوتا ہے اور وہی ویرانہ اس کا واعظ بن سکتا ہے۔اس پر وہ کچھ متغیر ہو کر کہنے لگے کہ مولوی صاحب ! آگے آئیں۔چونکہ میں اُن کے گھٹنے کے بالکل قریب ہی تھا اور آگے کوئی جگہ نہ تھی اس لئے میں نے سر ہی آگے کر دیا۔انہوں نے کہا کہ دیکھو! میرے بیٹھنے کا گدیلا تو وہ ہے اور میں ہمیشہ اس کھڑکی ہی میں بیٹھتا ہوں۔آپ دیکھیں۔اس کھڑکی کے سامنے ایک محرابدار دروازہ ہے اور اس وقت مجھے معلوم ہوا کہ یہ میرے لئے واعظ ہے۔اس گھر کا مالک ہماری ہی قوم کا ایک شخص تھا اور اتنا بڑا آدمی تھا کہ سرخ چھاتا اس کے لئے مہاراج کے سامنے لگایا جاتا تھا اور ہم لوگ تو کالی چھتری بھی