حیاتِ نور — Page 130
اس کے عوض میں ایک اور لڑکا دے گا لیکن اس کو تو اب جانے دو۔چنانچہ وہ لڑکا فوت ہو گیا اور اس کے بعد ایک اور لڑکا پیدا ہوا جو زندہ رہا۔اب تک برسر روزگار ہے۔یہ الہی غیرت تھی۔کا عملیات کے مدعی کا حال ایک عملیات کا مدعی جو اس بات کا دعوی کرتا تھا کہ اسے ایسا عمل یاد ہے۔جس کی وجہ سے ایک آدمی پانچ روپے روزانہ بڑی آسانی سے کما سکتا ہے۔وہ آپ کی خدمت میں حاضر ہوا اور یہ ظاہر کیا کہ وہ حضرت شاہ عبد الغنی صاحب کا مرید ہے۔آپ نے حضرت شاہ صاحب کے نام کی وجہ سے اس کی عزت کی مگر بعد میں پتہ چلا کہ وہ محض ٹھگ ہے۔حضرت شاہ صاحب موصوف سے اس کا کوئی تعلق شاگردی نہیں۔اس کے بعد اس نے آپ کی خدمت میں درخواست کی کہ آپ ساٹھ روپے ماہوار کی ملازمت کے لئے اس کی سفارش کر دیں بلکہ بعد میں پندرہ روپے ماہوار تک کی ملازمت کے لئے کوشش کی۔مگر آپ نے نہ تو اسے یہ یاد دلایا کہ تمہیں ملازمت کی کیا ضرورت ہے۔تمہیں تو ایسا عمل یاد ہے جس کی وجہ سے تم پانچ روپے روزانہ کما سکتے ہو اور نہ ہی یہ فرمایا کہ تم نے حضرت شاہ عبد الغنی صاحب سے تعلق شاگردی بنا کر آپ کو کیوں دھوکا دیا بلکہ درگزر سے کام لیا اوراس سم کی کاروائیوں کی وجہ سے اسے کچھ ملامت نہ کی۔۱۸ ایک فقیر کی عجیب حرکات ایک مرتبہ پونچھ کے بازاروں میں آپ نے ایک فقیر کو عجیب حرکات کرتے دیکھا۔جب اس سے دریافت کیا تو اس نے کہا کہ میرے مرشد ایک فقیر نے مجھ سے تین باتوں کا وعدہ کیا تھا اور عمل بتایا تھا جس کی وجہ سے وہ تینوں باتیں حاصل ہو سکتی تھیں۔میں وہ عمل کر رہا ہوں لیکن مجھے حاصل کچھ نہیں ہوا۔آپ نے فرمایا ان باتوں میں سے کوئی ایک بات بتاؤ۔اس نے کہا۔فقیر نے بتایا تھا کہ جب تم آنکھیں بند کرو گے تو تم کو سب حقیقت کا پتہ لگ جائے گا۔آپ نے فرمایا یہ تو میں تم کو ابھی بتائے دیتا ہوں۔تم اپنی آنکھیں بند کرو۔چنانچہ جب اس نے آنکھیں بند کیں تو آپ نے کہا کیا تم کو کچھ نظر آتا ہے۔کہنے لگا کچھ نظر نہیں آتا۔آپ نے فرمایا حقیقت تو معلوم ہو گئی کہ اس عمل میں سوائے اندھیرے کے اور کچھ نہیں ہے۔اس نے کہا۔مجھ سے اس فقیر نے یہ بھی کہا تھا کہ اس عمل کی وجہ سے تم فوت شدہ لوگوں کی برائیوں اور بھلائیوں سے آگاہ ہو سکو گے۔آپ اس وقت ایک ایسی جگہ تھے کہ سامنے شاہ