حیاتِ نور — Page 131
ـور ۱۳۱ عبدالغفور ایک بزرگ کی خانقاہ تھی اور اس کے قریب ہی ایک کچن کی قبر تھی۔آپ نے اس بزرگ کی قبر کی طرف اشارہ کر کے کہا کہ یہ کس کی قبر ہے؟ اس نے کہا، یہ تو بڑے بزرگ ولی اللہ گزرے ہیں۔پھر آپ نے دوسری قبر کی طرف اشارہ کر کے پوچھا کہ یہ کس کی قبر ہے؟ اس نے کہا یہ تو ایک بد کار کنچنی کی قبر ہے۔آپ نے فرمایا۔بس یہ بات تم کو حاصل ہے کہ برے اور بھلے وفات یافتہ اشخاص کا تمہیں علم اہے۔آپ کی اس بات کو سنکر وہ حیران سا رہ گیا۔اور آپ کے ہاتھ چومنے لگا۔اور آئندہ کے لئے اس عمل سے باز رہنے کا وعدہ کر کے چلا گیا۔مگر کچھ عرصہ بعد آپ نے اسے پھر بازار میں ایسی حرکات کا مرتکب پایا۔جس پر یہ خیال کیا کہ چالیس برس کی عادت کا یک لخت چھوڑنا مشکل۔ایک شیعہ طبیب کی شرافت ۱۹ ولیعہد صاحب کے ایک خاص طبیب شیعہ تھے۔انہوں نے ایک دن مطاعن صحابہ کا ذکر کیا۔آپ نے انہیں صرف اتنا کہا کہ عمر نام ایک صحابی کی اولاد سے میں بھی ہوں۔ہاں ! اب اعتراض کریں۔آپ فرماتے ہیں: ان کی شرافت کا یہ عجیب حال تھا کہ جب تک ہم وہاں رہے انہوں نے مذہبی چھیڑ چھاڑ میرے سامنے کبھی نہیں کی صرف میں نے ولیعہد کی تحریک پر ایک خط لکھا تھا جو مطبوع موجود ہے مگر اس کا بھی انہوں نے جواب نہ دیا۔مہمان نوازی کاشمرہ آپ فرماتے ہیں: ایک دفعہ میرے ہاں مہمان آگئے۔میں نے بیوی سے پوچھا مگر جواب ملا کہ ہمارے ہاں تو کچھ نہیں۔یہ جموں کا واقعہ ہے۔روپے تو ہمیں بہت آتے تھے مگر بعض وقت ہمارے گھر میں کچھ بھی نہیں ہوتا تھا۔کہیں سے میں نے پانچ روپے اُدھار لئے۔میں بازار کے راستے سے گھر کو جانے لگا تو دیکھا کہ ایک دوکاندار اپنی دکان کو ماتھا ٹیکنے لگا ہوا ہے۔اس نے خوش ہو کر پانچ روپے میرے آگے رکھ دیئے۔میں نے کہا کیوں دیتے ہو؟ اس نے کہا آپ بڑے آدمی میں آپ کے سویرے ہی درشن ہو گئے ہیں۔آج ہمیں بہت کچھ ملے گا۔اس واسطے خالی ساتھ درشن نہیں کرتا۔"