حیاتِ نور

by Other Authors

Page 121 of 831

حیاتِ نور — Page 121

۱۲۱ پادری صاحب سے بھی کہہ دیا کہ یہ ایسا کہتے ہیں۔انہوں نے کہا ہاں یہ مناسب ہے۔پھر میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ بتاؤ اور کون ہے جو مثل تمہارے ہو؟ حافظ صاحب نے کہا کہ ایک اسٹیشن ماسٹر ہے۔چنانچہ ہم اسٹیشن پر آئے۔اسٹیشن ماسٹر صاحب نے تو بڑی ہی دلیری سے کہا۔مذہب عیسائی کا مقابلہ تو کسی مذہب سے ہو ہی نہیں سکتا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ یہ تو پھنس گئے۔جب اسٹیشن ماسٹر صاحب نے حافظ صاحب سے سنا کہ پادری صاحب خاموش ہو گئے تو وہ حیران ہو گیا۔آخر اس پادری نے ایک بڑا طو مار اعتراضوں کا لکھ کر بھیجا۔میں نے حافظ صاحب سے کہا کہ بتاؤ یہ کوئی ایک دن کا کام ہے؟ انہوں نے کہا نہیں۔میں نے کہا تم ہی مدت مقرر کر دو۔حافظ صاحب نے کہا ایک برس تک کتاب چھپ کر ہمارے پاس پہنچ جائے“۔کتاب کی تیاری کا سامان میں جموں آیا۔اس زمانہ میں زلزلے بہت آئے تھے۔راجہ پونچھ کا بیٹا زلزلوں کے سبب پاگل ہو گیا تھا۔اس نے جموں کے راجہ کو لکھا کہ ہم کو ایک اعلیٰ درجہ کے ب کی ضرورت ہے۔چنانچہ میں وہاں گیا۔مجھ کو شہر سے باہر ایک تنہا مکان دیا گیا۔بس ایک مریض کا دیکھنا اور تمام دن تنہائی۔میں وہاں بائیل اور قرآن شریف پڑھنے لگا۔ان تمام اعتراضوں کو پیش نظر رکھ کر بائیبل پرنشان کرتا رہا۔پھر اس کے بعد قرآن شریف پڑھتا اور نشان کرتا رہا۔اس کے بعد کتاب لکھنی شروع کی اور چار جلد کی ایک کتاب ( فصل الخطاب ) لکھی۔ادھر کتاب تیار ہوئی ادھر راجہ کا لڑکا اچھا ہو گیا۔اب روپیہ کی فکر تھی کہ کتاب چھپے۔راجہ پونچھ نے کئی ہزار روپیہ دیا۔جب جموں آیا تو راجہ صاحب جموں نے پوچھا۔کیا دیا۔میں نے وہ تمام روپیہ آگے رکھ دیا۔وہ بہت ناراض ہوئے کہ بہت تھوڑا روپیہ دیا۔چنانچہ اسی وقت حکم دیا کہ ان کو سال بھر کی تنخواہ اور انعام ہماری سرکار سے ملے۔میں نے وہ روپیہ اور دو جلد میں دلی بھیجد یں۔وہاں سے چھپ کر آئیں تو حافظ صاحب اور مثل ان کے دوسرے لوگوں کو بھیج دیں۔انہوں نے جواب میں لکھا کہ ہم بچے دل سے اب مسلمان ہو گئے۔باقی کی ضرورت نہیں۔