حیاتِ نور — Page 95
رہیں گے۔اس کے ہاتھ سے ان روپوں کو تقسیم کر دیا۔جب میں گھر میں پہنچا تو میرے ایک مکرم دوست اللهم اغفرہ وارحمہ جو میری آسائش کو بہت ضروری سمجھتے تھے۔حکیم فضل الدین ان کا نام تھا اور تم ستم کی امدادوں میں وہ لگے رہتے تھے۔انہوں نے مجھ سے کہا یہ یوں تو کچھ دیتے نہیں۔آپ اس لڑکے کے لئے ایک لباس بنوا کر بھیجد ہیں۔اس لباس کی وسعت مقدار کو دیکھ کر اس رئیس نے تفاؤل لیا کہ یہ لڑ کا جوان ہو گا اور وہ لباس جوانی کے وقت کے لئے محفوظ رکھا۔جب وہ آدمی واپس آیا تو میں نے حکیم فضل الدین صاحب سے کہا کہ مال کا نام قرآن کریم نے فضل رکھا ہے۔یہ فضل سے حاصل ہوتا ہے۔مجھ کو تو یہ فائدہ حاصل ہوا کہ میں مخلوق پر اب قطعاً کبھی بھروسہ نہ کروں گا اور خدا تعالیٰ اب مجھ کو اپنے خاص کارخانہ سے رزق بھیجے گا اور میں آئندہ ارادہ بھی نہ کروں گا کہ کسی کو قیمتا دوائی دوں۔یہ ایک امارت اور دولتمندی کی راہ تھی جو مجھ کو اس دن عطا ہوئی۔الحمد لله رب العالمین ۲۳ تاریخ ابن خلدون کی خرید کا شوق ان ایام میں آپ کو تاریخ ابن خلدون کی خرید کا شوق پیدا ہوا مگر روپیہ پاس نہیں تھا اور تا جرجس کے پاس وہ کتاب تھی۔قسطوں میں قیمت لینا پسند نہیں کرتا تھا اس لئے آپ اسے خرید نہ سکے۔لیکن ایک دن نماز ظہر کے لئے جب مطلب میں تشریف لائے تو کتاب کو موجود پاکر حیران رہ گئے۔اس سے پوچھا۔اُس سے دریافت کیا۔کچھ پتہ نہ چلا کہ کتاب کون رکھ گیا ہے۔آخر ایک روز ایک بیمار نے بتایا کہ یہ کتاب ایک سکھ رکھ گیا تھا۔جب اس سکھ کو بلا کر پوچھا گیا تو اس نے کہا کہ آپ کی مجلس میں ذکر ہوا تھا کہ آپ کے پاس کتاب خریدنے کے لئے روپیہ نہیں ہے تو میں کتاب خرید کر یہاں رکھ گیا تھا اور رد پیہ میں نے فلاں امیر سے حاصل کر لیا تھا کیونکہ اس کا مجھے حکم ہے کہ حکیم صاحب کو جب کوئی ضرورت ہوا کرے بلا ہمارے پوچھے روپیہ خرچ کر دیا کرو لیکن آپ نے اس امیر کو وہ روپیہ جلد ہی واپس کر دیا۔جس کی وجہ سے اسے سخت رنج پہنچا اور اس نے آپ کے بڑے بھائی صاحب کو بلا کر گلہ کیا کہ ہم نے تو نذرانہ پیش کیا تھا مگر انہوں نے واپس کر دیا۔چنانچہ آپ کے بھائی نے وہ روپیہ واپس نے لیا اور آپ کو ملامت کی۔آپ فرماتے ہیں کہ تو کل علی اللہ کی خوشی کے مقابلہ میں یہ تم مجھ کو لینی گوارا بھی یہ تھی۔"