حیاتِ نور — Page 81
ور Al ماشری کے ایک مریض کا خون نکالنے کے بغیر علاج بھیرہ کے مفتیوں کے گھر میں جو آپ کی شادی ہوئی تھی ، اس کا ذکر کرتے ہوئے ایک جگہ فرماتے ہیں: ”میری شادی تھی مفتیوں کے محلہ میں ، وہاں جراح رہتے تھے۔میرا بیاہ تھا۔وہ آتے رہتے تھے۔ایک نے مجھ سے کچھ نفسی کی۔میں نے کہا کہ تم بڑے جاہل ہو۔اس نے کہا کہ کیا تو ہمار اختاج نہیں ہے؟ کبھی خون نہ نکلوانا ہوگا ؟ میں نے کہا میں نکلواؤں گا ہی نہ۔بلکہ یہ تمہارا کام ہی چھڑا دوں گا میاں شیخ احمد صاحب نے مجھے کہا کہ یہ لوگ آپ سے ناراض ہو جائیں گے اور طب کے کام میں مشکل پڑے گی۔ایک دفعہ ایک کر پا رام پنساری تھا۔اُس کو ماشری ہو جاتا تھا۔انہوں نے کہا کہ جب تک اس کا تین سیر خون نہ نکلے آرام ہو ہی نہیں سکتا۔چنانچہ ایک دفعہ اس کو سخت ماشر کی ہو گیا۔میں نے اُس کا دوسری طرح علاج شروع کیا اور ایسا انتظام کیا کہ جس سے اُس کو غش ہو گیا۔غش کے ساتھ ہی سب ورم وغیرہ دُور ہو گیا۔شیخ احمد صاحب نے مجھے کہا کہ یہ مر جائے گا۔بجائے اس کے اس کو بالکل آرام ہو گیا اور پھر کبھی نہ ہوا جس کو وہ حجام لوگ بھی مان گئے۔میں پنساری نہیں ایک دفعہ میری ماں نے مجھے علیحد ہ یکا یا اور کہا کہ میں تجھے ایک بھلائی کی بات کہوں۔میں نے کہا وہ کیا؟ انہوں نے کہا کہ تیرا بھائی جو طلب کرتا ہے وہ کہتا ہے که نورالدین کو طب کرنا نہیں آتا اور اس کو شربت شیرہ بنانا بھی نہیں آتا۔وہ میرے پاس آیا کرے اور سیکھا کرے۔میں نے کہا کہ یہ پنساریوں کا کام ہے۔اُس نے کہا کہ تم اس کام کو سیکھنا نہیں چاہتے؟ میں نے کہا کہ جب چپنساری بنے لگوں گا تو سیکھ لوں گا“۔۱۵ تو یہ نہ کرنے کا نقصان آپ فرماتے ہیں: ”ہمارے شہر میں ایک کنچتی رہتی تھی۔روزانہ میرے پاس آتی اور کہتی کہ تو بہ کیا ہوتی ہے؟ میں بہت تنگ ہوا۔کچھ عرصہ وہ غیر حاضر اور غائب رہی۔پھر ایک روز