حیاتِ ناصر — Page 60
حیات ناصر 60 کی جامع مسجد میں اگر اتفاقاً لاہور میں تشریف لے جاویں تو مارے ضد اور شرم کے داخل نہیں ہو سکتے اور مرزا صاحب کے پاس (جو بزعم مولوی صاحب کا فر بلکہ کفر اور دجال ہیں ) گھر بیٹھے لاہور، امرتسر، پشاور، کشمیر، جموں، سیالکوٹ، کپورتھلہ،لد ہیانہ بمبئی، ممالک شمال و مغرب ، اودھ، مکہ معظمہ وغیرہ بلاد سے لوگ گھر سے بوریا بدھنا باندھے چلے آتے ہیں۔پھر آنے والے بدعتی نہیں ، مشرک نہیں ، جاہل نہیں ، کنگال نہیں بلکہ موحد اہلحدیث، مولوی ،مفتی ، پیرزادے، شریف ، امیر ، نواب، وکیل۔اب ذرا سوچنے کا مقام ہے کہ باوجود مولوی محمد حسین صاحب کے گرانے کے اور اکثر مولویوں سے کفر کے فتوے پر مہریں لگوانے کے اللہ جل شانہ نے مرزا صاحب کوکس قدر چڑھایا اور کس قدر خلق خدا کے دلوں کو متوجہ کر دیا کہ اپنا آرام چھوڑ کر وطن سے جدا ہو کر روپیہ خرچ کر کے قادیان میں آکر زمین پر سوتے بلکہ ریل میں ایک دورات جاگے بھی ضرور ہونگے اور کئی پیادہ چل کر بھی حاضر ہوئے۔میں نے ایک شخص کے بھی منہ سے کسی قسم کی شکایت نہیں سنی مرزا صاحب کے گرد ایسے جمع ہوتے تھے جیسے شمع کے گرد پروانے۔جب مرزا صاحب کچھ فرماتے تھے تو ہمہ تن گوش ہو جاتے تھے۔قریباً چالیس پچاس شخص اس جلسہ پر مرید ہوئے۔مرزا احمد بیگ کے انتقال کی پیشگوئی کے پوری ہونے کا ذکر بھی مرزا صاحب نے ساری خلقت کے روبروسنا یا جس کے بارے میں نورافشاں نے مرزا صاحب کو بہت کچھ بُرا بھلا کہا تھا۔اب نورافشاں خیال کرے کہ پیش گوئیاں اس طرح پوری ہوتی ہیں۔یہ بات بجز اہلِ اسلام کے کسی دین والے کو آجکل حاصل نہیں اور مسلمان خصوصاً مخالفین سوچیں کہ یہ خوب بات ہے کہ کافر، اکفر ، دجال، مکار کی پیشگوئیاں باوجود یکہ اللہ تعالیٰ پر افتراؤں کی طومار باندھ رہا ہے اللہ تعالیٰ پوری کر دے اور رسول اللہ ﷺ کے بزعم خود ) نائبین کی باتوں میں خاک بھی اثر نہ دے اور ان کو ایسا ذلیل کرے کہ لاہور چھوڑ کر بٹالہ میں آنا پڑے۔افسوس صد افسوس آجکل کے ان مولویوں کی نابینائی پر جو العلم حجاب الاکبر کے نیچے دبے پڑے ہیں اور بائیں وجہ ایک ایسے برگزیدہ بندہ کا نام دجال و کافر رکھتے ہیں جس کی اللہ تعالیٰ کو ایسی محبت ہے کہ دین کی خدمت پر مقرر کر رکھا ہے اور وہ بندہ خدا آریہ، برہمو، عیسائیوں ، نیچریوں سے لڑ رہا ہے۔کوئی کافر تاب مقابلہ نہیں لاسکتا۔نہ کوئی مولوی باوجود کا فر ملعون ، دجال بنانے کے خلقت کے دلوں کو ان کی طرف سے ہٹا سکتا ہے۔معاذ اللہ عصاء موسیٰ و ید بیضاء کو بزعم مولویان پسپا اور رسوا کر رہا ہے۔نائبین رسول مقبول میں کوئی برکت، کچھ نورانیت نہیں رہی۔اتنا بھی سلیقہ نہیں کہ اپنے چند شاگردوں کو بھی قابو میں رکھ سکیں اور خلق محمدی کا نمونہ دکھا کر اپنا شیفتہ بنالیں۔کسی ملک میں ہدایت پھیلانا اور مخالفین اسلام کو زیر کرنا تو در کنار ایک شہر بلکہ ایک محلہ کو بھی درست نہیں کر سکتے برخلاف اس کے