حیاتِ ناصر — Page 59
حیات ناصر 59 کیا ذکر ہے رو برواُف تک نہیں کرتے۔سرتسلیم خم ہے جو مزاج یار میں آئے۔مولوی محمد حسین صاحب زیادہ نہیں چار پانچ آدمی تو ایسے اپنے دوست بتا دیں جو پوری پوری (خدا کے واسطے) مولوی صاحب سے محبت رکھتے ہوں اور دل و جان سے فدا ہوں اور اپنے مال کو مولوی صاحب پر قربان کر دیں اور اپنی عزت کو مولوی صاحب کی عزت پر نثار کرنے کے لئے مستعد ہوں۔اگر مولوی صاحب یہ فرما دیں کہ بچوں اور نیکوں سے لوگوں کو محبت نہیں ہوتی بلکہ جھوٹے اور مکاروں سے لوگوں کو الفت ہوتی ہے تو میں پوچھتا ہوں کہ اصحاب واہل بیت کو جناب رسول اللہ صلے اللہ علیہ وسلم سے محبت تھی یا نہیں۔وہ حضرت کے پورے پورے تابع تھے یا ان کو اختلاف تھا۔بہت نزدیک کی ایک بات یاد دلاتا ہوں کہ مولوی عبداللہ صاحب غزنوی جو میرے اور نیز محمد حسین صاحب کے پیر ومرشد تھے ان کے مرید ان سے کس قدر محبت رکھتے تھے اور کس قدر ان کے تابع فرمان تھے۔سنا ہے کہ ایک دفعہ انہوں نے اپنے ایک خاص مرید کو کہا کہ تم نجد واقعہ ملک عرب میں جا کر رسائل تو حید مصنف محمد بن عبد الوہاب نقل کر لاؤ۔وہ مرید فوراً رخصت ہوا ایک دم کا بھی توقف نہ کیا حالانکہ خرچ راہ وسواری بھی اس کے پاس نہ تھا۔مولوی محمد حسین صاحب اگر اپنے کسی دوست کو بازار سے پیسہ دے کر دہی لانے کو فرماویں تو شاید منظور نہ کرے اور اگر منظور کرے تو ناراض ہو کر اور شاید غیبت میں لوگوں سے گلہ بھی کرے ہے۔ببیں تفاوت ره از کجا است تابکجا یہ نمونہ کے طور پر بیان کیا گیا ہے۔ہر صدی میں ہزاروں اولیاء ( جن پر ان کے زمانہ میں کفر کے فتوے بھی ہوتے رہے ہیں ) اور کم و بیش ان کے مرید ان کے فرمانبردار اور جان نثار ہوئے ہیں۔یہ نتیجہ ہے نیکیوں کی خدا کے ساتھ دلی محبت کا۔مرزا صاحب کو چونکہ کچی محبت اپنے مولا سے ہے اس لئے آسمان سے قبولیت اتری ہے اور رفتہ رفتہ باوجود مولویوں کی سخت مخالفت کے سعید لوگوں کے دلوں میں مرزا صاحب کی الفت ترقی کرتی جارہی ہے (اگر چہ ابوسعید صاحب خفا ہی کیوں نہ ہوں ) اب اس کے مقابل میں مولوی صاحب جو آج * ماشاء اللہ آفتاب بنے ہوئے ہیں۔اپنے حال میں غور فرما دیں کہ کس قدر سچے محبت ان کے ہیں اور ان کے سچے دوستوں کا اندرونی کیا حال ہے۔شروع شروع میں کہتے ہیں مولوی صاحب کبھی اچھے شخص تھے مگر اب تو انہیں حب جاہ اور علم فضل کے فخر نے عرش عزت سے خاک مذلت پر گرا دیا انا للہ وانا الیہ راجعون۔اب مولوی صاحب غور فرما دیں کہ یہ کیا پھر پڑ گئے کہ مولوی اور خصوصاً مولوی محمد حسین صاحب سرآمد علماء پنجاب ( بزعم خود) سے لوگوں کو اس قدر نفرت کہ جس کے باعث مولوی صاحب کو لاہور چھوڑ نا پڑا۔موحدین حمد اس اشاعت کے وقت فوت ہو چکے ہیں۔عرفانی