حیاتِ ناصر — Page 49
حیات ناصر 49 حضرت میر صاحب کے کلام میں سے کچھ حضرت میر صاحب کی شاعری کے متعلق ایک مختصر سا ریمارک میں اوپر کر چکا ہوں اگر اُن کا سارا کلام جمع کیا جاوے تو ایک ضخیم جلد تیار ہوسکتی ہے۔جس کو اللہ تعالیٰ توفیق دے گا وہ جمع کر دے گا۔اس مختصر تالیف میں میرے لئے یہ ناممکن ہے کہ میں کئی سو منظوم صفحات کو لا سکوں تا ہم میں ان کے کلام میں سے یہاں بعض نظمیں دینی ضروری سمجھتا ہوں۔ان میں سے پہلی ایک مناجات اور دعا بحضور رب العالمین ہے۔دعا انسان کے نہاں در نہاں جذبات اور اندرونی خواہشات کا اظہار ہوتی ہے اور اس سے اس کی سیرۃ اور زندگی پر روشنی پڑتی ہے۔حضرت نبی کریم صلے اللہ علیہ وسلم کی پاک فطرۃ اور اعلیٰ سیرۃ کا اندازہ آپ کی دعاؤں سے ہوتا ہے۔میں نے اس خصوص میں تادیب النساء میں ایک سلسلہ حضور علیہ الصلوۃ والسلام کی سیرۃ کا اِسی نقطہ نظر سے لکھا تھا۔حضرت میر ناصر نواب صاحب کی اس مناجات پر اگر آپ غور کریں تو ان کے مقام کا پتہ لگتا ہے۔دوسری نظم حرم محترم کے عنوان سے آج سے اکیس برس پیشتر میں نے شائع کی تھی۔یہ نظم جیسا کہ میں او پر کہہ آیا ہوں حضرت نانی اماں کی شان میں ہے۔یہ نظم ایک طرف حضرت نانی اماں کے اعلیٰ اخلاق اور ان اعلیٰ خوبیوں کا نمونہ ہے جو ایک شریف بی بی میں ہونی چاہئیں جس سے وہ شفیق ماں اور فرمانبردار اور مخلصہ بیوی بن سکے۔دوسری طرف حضرت میر صاحب کی شکر گذار فطرت اور قدرشناس سیرۃ کو ظاہر کرتی ہے اور میں اس کو اسی نقطہ خیال سے یہاں درج کر رہا ہوں ان کا کلام نہایت سلیس، عام فہم اور موثر ہے۔میں سمجھتا ہوں کہ اس کتاب کے پڑھنے والوں کے لئے یہ بہت کچھ دلچسپی کا موجب ہوگا۔مناجات ناصر میں مشکلات میں ہوں مشکل کشا تو ہی ہے محتاج ہوں میں تیرا حاجت روا تو ہی ہے دکھ درد ہیں ہزاروں کس کس کا نام لوں میں بندہ ہوں میں تو عاجز میرا خدا تو ہی ہے سچے رسول تیرے کچی تری کتابیں سب گمراہوں کا لیکن اک راہنما تو ہی ہے صد ہا طبیب حاذق لاکھوں ہی ہیں دوائیں لیکن میرے پیارے دل کی دوا تو ہی ہے کچھ بھی ہمیں تو آتا تجھ بن نظر نہیں ہے پوشیدہ بھی تو ہی ہے اور برملاء تو ہی ہے