حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 31 of 104

حیاتِ ناصر — Page 31

حیات ناصر 31 اپنی نصرت سے ہمیں کر کامیاب مہیا کر دعاؤں کو ہماری مستجاب خدا تعالیٰ نے ان کی دعاؤں کو سنا اور سلسلہ کی کامیابیوں کا ایک روشن زمانہ حضرت نانا جان کو دکھایا۔اعدائے سلسلہ تباہ و برباد ہوئے اور سلسلہ کے خادم اور مخلص کامیاب و با مراد ہوئے غرض وہ دشمنان سلسلہ کا جواب نظم میں دینے کے لئے ایک شمشیر برہنہ تھے اور بالمشافہ گفتگو کرتے ہوئے بھی کبھی کسی کو ان کے سامنے یہ جرأت نہ ہوتی تھی کہ بدگوئی کر سکے کیونکہ وہ جواب دینے میں ادھار نہ رکھتے تھے فورا منہ پر جواب دیتے تھے۔میں مانتا ہوں ان کے کلام میں مرارت ہوتی تھی مگر یہ مرارت حق کی مرارت اور ایمانی غیرت کے نتیجہ میں ہوتی تھی کہ وہ کسی بدگو سے سلسلہ کی بدگوئی نہ سن سکتے تھے۔القصہ ان کا کلام پند ونصائح اور تحریک نیکی و سعادت، دشمنوں کے ناپاک الزامات کے جواب ،امر بالمعروف اور نہی عن المنکر پرمبنی ہوتا تھا۔ایک مرتبہ اللہ تعالیٰ کے اسماء کو انہوں نے بطور دعا کے منظوم کیا اور اسی طرح ایک مرتبہ حضرت نانی اماں کے خصائل حمیدہ کا تذکرہ لکھا۔اس وقت مجھے آپ کے کلام پر کوئی تبصرہ یا تنقید لکھنا مقصود نہیں بلکہ اس میں ان کی جس اخلاقی شان کو ظاہر کرنا چاہتا ہوں اس کا اظہار مقصود ہے۔حضرت مسیح موعود علیہ السلام آپ کے کلام کو پسند فرماتے تھے۔ایک مرتبہ حضرت میر صاحب کی ایک نظم کو آریہ دھرم میں بھی جگہ دی گئی۔آریہ مقتول پنڈت لیکھرام کے واقعہ قتل کو جو خدا تعالیٰ کا ایک زبردست نشان ہے حضرت نانا جان نے نظم کیا اور اسے شائع کیا۔یہ کتاب عام طور پر بہت پسند کی گئی۔اس کی زبان نہایت سلیس، شیریں اور موثر ہے۔بعض نادانوں نے حضرت میر صاحب کے کلام میں سختی کا احساس کیا ہے مگر یہ میچ نہیں ان کی سختی کی حقیقت میں بیان کر چکا ہوں ان کے ہر کلام میں سختی نہ ہوتی تھی۔آئینہ حق نما کو پڑھو تو معلوم ہوگا کہ کیسا لطیف اور موثر کلام ہے۔غرض آپ نے اپنے اس خدادا د جو ہر سے کام لیا اور سیف کا کام قلم سے ہے دکھایا ہم نے کی ملی تصدیق کی۔حضرت میر صاحب بحیثیت مناظر حضرت میر صاحب قبلہ نے اپنی شاعری کو جیسا کہ میں لکھ چکا ہوں خدمت اسلام اور صداقت سلسلہ تک محدود رکھا اور یا مظاہرات قدرت کے اظہار میں خدا تعالیٰ کی حمد اور اس کی قدرت نمائیوں میں محو ہوکر ذوق ایمان پیدا کیا یا اخلاقیات کی تعلیم دی۔میں اسی کتاب میں ان کے کلام کا کچھ اقتباس دوں گا۔سلسلہ کے متعلق جواظم آپ کہتے تھے اس میں آپ کی شان مناظر بھی نمایاں ہوتی تھی۔قدرت نے جہاں آپ کو جرات اور شجاعت اور حق گوئی