حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 21 of 104

حیاتِ ناصر — Page 21

حیات ناصر 21 ہٹانا چاہا مگر خدا تعالیٰ نے ان کے سینہ کو کھول دیا تھا انہوں نے قطعاً توجہ نہ کی اور خود ان کو تبلیغ کرتے رہے اور یو م فيوماً اس جوش اور غیرت دینی میں ترقی کرتے رہے۔صاف دلی حضرت میر صاحب بہت ہی نیک دل اور سینہ صاف پاکیزہ طبیعت رکھتے تھے اگر کسی سے ناراض ہوتے تو اس وقت ایسا معلوم ہوتا تھا کہ گویا ساری عمر اب اس سے آپ کا کوئی تعلق نہیں رہے گا مگر آپ کی عادت میں یہ امر داخل تھا کہ تین دن سے زیادہ غصہ کبھی نہیں رکھتے تھے اور خود سب سے پہلے السلام علیکم کہتے اور صفائی کر لیتے تھے اور نہ صرف صفائی کرتے بلکہ بعض اوقات معذرت میں انہیں تامل نہیں ہوتا تھا۔اس خصوص میں آپ کی زندگی کے بعض واقعات خاص اثر رکھتے ہیں۔فلاسفر کا ایک واقعہ ہماری جماعت میں فلاسفر صاحب میاں الہ دین نام مشہور ہے۔جن ایام میں حضرت میر صاحب پیشن لے کر تشریف لائے فلاسفر صاحب سے کسی بات پر تکرار ہو گیا اور نوبت یہاں تک پہنچی کہ فلاسفر صاحب کو مار پڑی۔معاملہ حضرت مسیح موعود علیہ السلام تک پہنچا آپ نے فلاسفر صاحب کے حق میں فیصلہ کر دیا۔حضرت میر صاحب اور بعض دوسرے دوستوں نے فلاسفر صاحب سے معافی چاہی اور حضرت میر صاحب سب سے پہلے پہنچے انہوں نے ذرا بھی تامل نہیں کیا۔اس سے میر صاحب کی صاف دلی پر ہی روشنی نہیں پڑتی بلکہ ایمان کی جو یہ شرط ہے فَلَا وَرَبِّكَ لَا يُؤْمِنُونَ حَتَّى يُحَكِّمُوكَ فِيْمَا شَجَرَ بَيْنَهُمْ ثُمَّ لَا يَجِدُوا فِي أَنْفُسِهِمْ حَرَجًا مِّمَّا قَضَيْتَ ( سورة النساء: ۶۶) نہایت شرح صدر کے ساتھ نہایت اخلاص اور جوش سے حضرت مسیح موعود کے ارشاد کی تعمیل کی۔غرض حضرت نانا جان کی صاف گوئی اور صاف دلی آئینہ کی طرح روشن تھی۔وہ حق کے کہنے میں کسی چھوٹے بڑے کی رعایت نہ کرتے اور سینہ کو ہمیشہ بغض وحسد سے پاک رکھتے تھے اگر کسی سے ناراض ہوتے تو اس میں تہا جر کا رنگ نہ ہوتا خود السلام علیکم سے ابتداء کرتے اور معافی مانگ لینے میں کبھی کسرشان نہ سمجھتے۔میرا ایک واقعہ