حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 18 of 104

حیاتِ ناصر — Page 18

حیات ناصر 18 حضرت میر صاحب سے میری واقفیت ہوئی اور خدا کا احسان اور محض فضل ہے کہ آج ۳۸ برس کے بعد اس تعلق کو زیادہ شیریں، بہت مضبوط اور موثر پاتا ہوں۔پس میں حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کے متعلق جو کچھ لکھوں گا وہ میرے۳۴ سالہ تجربہ کا نچوڑ ہے۔میں میر صاحب قبلہ کی زندگی کے تفصیلی حالات اور سوانح اس مقام پر لکھنے کے لئے تیار نہیں بلکہ میں ان کی سیرۃ کے بعض شمائل کا تذکرہ کروں گا جو ہمارے لئے نشان میل ہو سکتے ہیں۔سادگی اور بے تکلفی جیسا کہ میں نے ابھی لکھا ہے میں ۱۸۸۹ء میں پہلی مرتبہ حضرت نانا جان سے ملا اور سب سے پہلی بات جس نے مجھے ان کی طرف متوجہ کیا اور میرے دل پر ان کی عظمت کا نقش ہوا وہ ان کی سادگی تھی۔ان کے لباس میں کبھی نمائش یا آرائش کا پہلو مدنظر نہ ہوتا تھا بلکہ لباس کی غرض صحیح ستر پوشی اور موسمی لحاظ سے گرمی یا سردی سے بچاؤ ہوتا تھا۔وہ ٹخنوں سے اونچا پاجامہ پہنا کرتے تھے اور چھوٹی سی سفید پگڑی یا رومی ٹوپی جو عموما بغیر پھندنے کے ہوتی پہنتے تھے۔اخیر عمر میں افغانی ٹوپی کی طرز پر ہندوستان کی بنی ہوئی ٹوپی بھی پہنتے رہے۔ان ایام میں ان کا لباس کرتہ صدری اور اس پر سفید چوغہ ہوتا تھا اور پاؤں میں لدھیانہ کی بنی ہوئی جوتی۔غرض لباس میں کوئی تکلف نہ تھا اور نہ کبھی انہوں نے اپنے عہدہ اور منصب کے لحاظ سے کسی برتری کا اظہار کیا۔وہ غرباء کی اس مجلس میں آکر بیٹھتے اور جب تک بیٹھے رہتے مذہبی اور دینی تذکرے ہوتے۔راست گوئی اور ایمانی جراءت حضرت میر صاحب ان ایام میں اہلحدیث تھے جن کو اس زمانہ میں وہابی کہتے تھے اور اس گروہ کی سخت مخالفت ہوتی تھی۔لدھیانہ وہاں کے مشہور کا فر گر علماء عبد العزیز اینڈ برادرز “ کے اثر کے نیچے تھا اور اہلحدیث کی مخالفت ہوتی تھی مگر حضرت میر صاحب نے کبھی اپنے عقائد کے اخفاء کی کوشش نہ کی جہاں ذکر آتا دلیرانہ ان کا اظہار کرتے اور یہ خدا کے فضل کی بات ہے کہ شریر سے شریر لوگ بھی ان کے سر نہ ہوتے تھے جس عقیدہ کو انہوں نے صحیح سمجھا اس میں کسی اپنے پرائے کا خیال نہیں کیا خدا کے لئے اسے قبول کیا۔ان کی زندگی میں اس کی بڑی نمایاں مثال یہ بھی ہے کہ ایک زمانہ میں جو زیادہ سے زیادہ ایک یادوسال کا ہوگا انہوں نے حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے دعوی کو قبول نہیں کیا باوجود اس تعلق اور رشتہ کے جو حضرت