حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 19 of 104

حیاتِ ناصر — Page 19

حیات ناصر 19 مسیح موعود علیہ السلام سے انہیں تھا۔انہوں نے جب تک دلائل عقلیہ اور شرعیہ سے اس کو سمجھ نہ لیا انکارکیا اور نہ صرف انکار کیا بلکہ مخالفت کی۔یہ مخالفت گونا جائز تھی مگر اس میں کوئی شبہ نہیں کہ تھی خدا کے لئے اس لئے وہ اس اختلاف میں بھی انشاء اللہ ماجور ہوں گے۔۱۸۹۲ء کے سالانہ جلسہ پر وہ قادیان آئے اور اس وقت مخالف ہی تھے مگر اس جلسہ کے برکات نے ان کے سینہ کو کھول دیا اور پھر کبھی کسی شک وریب نے راہ نہ پائی اور اس کے لئے انہوں نے بہت بڑی بڑی قربانیاں کیں۔اپنے بہت سے عزیزوں اور زمانہ اہلحدیث کے معزز دوستوں کو خدا کے لئے ترک کر دیا۔مولوی محمد حسین صاحب بٹالوی اور سید نذیر حسین صاحب دہلوی سے بہت محبت کے تعلقات تھے مگر خدا کی رضا کے لئے انہوں نے الحبُّ الله والبغض لله کا نمونہ دکھایا۔ان کی دلیری جرات اور صاف گوئی جماعت میں ضرب المثل تھی اگر چہ اس میں لازمی مرارت بھی ہو۔ہر معاملہ میں وہ راستبازی سے کام لیتے تھے اور اس کے اظہار میں وہ ظاہر داری اور خود داری کے پہلو کو ہمیشہ لغو سمجھتے تھے۔میں اس موقع پر ایک واقعہ کا بیان کرنے سے نہیں رک سکتا۔وہ محکمہ نہر میں ملازم تھے افسران نہر نے ایک قاعدہ کے ماتحت ان سے سو روپیہ نقد کی ضمانت طلب کی۔ان کے معاصرین نے زرضمانت داخل کر دیا مگر میر صاحب نے کہا کہ میرے پاس روپیہ نہیں ہے اور فی الحقیقت نہیں تھا۔جو کام ان کے سپرد تھا ( اوور سیری کا ) وہ اس میں ہزاروں روپیہ پیدا کر سکتے تھے اور لوگ کرتے تھے مگر وہ حلال اور حرام میں خدا کے فضل سے امتیاز کرتے تھے اور ان کی ملازمت کا عہد رشوت ستانی کے داغ سے بالکل پاک رہا اور اکل حلال ان کا عام شیوہ تھا۔غرض انہوں نے صاف کہا کہ میرے پاس روپیہ نہیں۔دوستوں نے افسروں نے ہر چند کہا کہ آپ روپیہ کسی سے قرض لے کر داخل کر دیں۔آپ یہی کہتے رہے کہ میں قرض ادا کہاں سے کروں گا میری ذاتی آمدنی سے قرض ادا نہیں ہوسکتا اور رشوت میں لیتا نہیں۔آخر ان کو نوٹس دیا گیا کہ یا تو روپیہ داخل کر دور نہ علیحدہ کئے جاؤ گے۔انہوں نے عزم کر لیا کہ علیحدگی منظور ہے مگر معاملہ چیف انجیز تک پہنچا جب اس نے کاغذات کو دیکھا تو اسے بہت ہی خوشی ہوئی کہ اس کے محکمہ میں ایسا امین موجود ہے