حیاتِ ناصر — Page 88
حیات ناصر 88 بغض سینے میں نہ ہو کینہ نہ ہو دل میں ذرا لب په شیرینی ہو اور دل میں ہو میرے بس مٹھاس میں اگر مانگوں تو مانگوں دیں کی نصرت کیلئے اے خدا مجھ کو بنانا تو نہ نفسانی گدا میں نہ تجھ پر بدگماں ہوں اور نہ تجھ سے ناامید مجز ترے کوئی نہیں بے آسروں کا آسرا تو نے ہے مجھ کو بنایا رزق دیتا ہے تو ہی شکر کر سکتا نہیں تیرا کسی صورت ادا میں ہوں مصروف گنہ اور تو ہے میرا پردہ پوش حیف ہے صد حیف ہے آتی نہیں مجھ کو حیا نعمتیں کھاتا ہوں تیری پر نہیں کرتا میں شکر پھر بھی دروازہ نہیں تو بند کرتا رزق کا سکھ مجھے دیتا ہے تو میں سرکشی کرتا ہوں پھر کس قدر ہے بردباری تجھ میں اور کیسی حیا اپنے ہاتھوں سے میں جب پڑتا ہوں دکھ میں اے کریم اپنے فضل عام سے دیتا ہے تو مجھ کو شفا نعمتوں کی تیری گنتی مجھ سے ہو سکتی نہیں کیونکہ ہیں تیرے عنایات و کرم بے انتہا یه زمین و آسمان میرے لئے پیدا کئے واسطے میرے بنائے تو نے یہ آب و ہوا روح دی انمول مجھ کو جسم بخشا بے بہا کام کرنے کے لئے مجھ کو دیئے یہ دست و پا دیکھنے کو آنکھ بخشی اور دیئے سننے کو کان بولنے کو دی زباں کی اس کو گویائی عطا سونگھنے کو ناک دی پھر مجھ کو بخشے تو نے پھول منہ دیا کھانے کو اور بخشا زباں کو ذائقہ عقل بخشی فہم بخشا اے میرے رب رحیم دور ہووے تا کہ اس عاجز سے ہر وہم وخطا اپنے فضل عام سے بخشے مجھے ہوش و حواس بے طلب بے مانگ کی تو نے ہراک مجھ پر عطا۔رات سونے کو بنائی دن کمانے کے لئے چاند و سورج تو نے بخشے تاکہ پاؤں میں ضیا پھول و پھل تو نے دیئے تو نے بنا ئیں بوٹیاں تیری بخشش سے ہے سب کچھ ہم غذا و ہم دوا کیسی کیسی با مزا خوراک دی تو نے مجھے شہد کھانے کو دیا اور دودھ پینے کو دیا سیم و زر تو نے دیا موتی دیئے ہیرے دیے نعمتوں کا تو نے دروازہ کیا ہے مجھ پہ وا یہ زمیں بخشی کہ تا پیدا ہو اس میں ہر اناج ہر طرف جاری ہے جس میں ایک چشمہ فیض کا دیدیئے تو نے مجھے دنیا کے یہ لاکھوں درخت ان سے تا حاصل کروں میں میوہ ہائے بامزا یہ سمندر مجھ کو بخشے تا چلیں ان میں جہاز اور ہر اک حاجت ہو میری ان کے باعث سے دوا ریل بخشی تو نے اور تو ہی نے موٹر کار دی فائدہ تو ہی نے بخشا مجھ کو ڈاک اور تار کا