حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 89 of 104

حیاتِ ناصر — Page 89

حیات ناصر 89 تو نے بخشے فضل سے یہ مال و دولت کے پہاڑ جن میں میرے واسطے ہر اک خزانہ ہے دیا یہ ہزاروں جانور میرے لئے پیدا کئے جن کی گنتی سے بھی ہوں ابتک تو میں نا آشنا بعض ہیں میری غذا اور بعض پر چڑھتا ہوں میں بعض دیگر خدمتیں کرتے ہیں بس صبح و مسا دودھ دیتا ہے کوئی اور ہل چلاتا ہے کوئی کونسا ہے جانور جس سے نہیں کچھ فائدہ روح کے بھی واسطے طیار ہے اسباب عیش واسطے اس کے مہیا کی ہے روحانی غذا یاد تیری روح کی بے شک غذائے پاک ہے پُر مشقت جو عبادت ہے وہ ہے اس کی دوا تیرے مرسل آئے سمجھانے کو میرے اے خدا اور کلام پاک میرے واسطے نازل کیا آئے دنیا میں ڈرانے کو میرے بے شک نذیر اور بشارت دینے کو آئے ہزاروں انبیاء جب ترے الطاف مجھ پر بڑھ گئے حد سے خیروں تو نے بھیجا واسطے میرے محمد مصطفے اس کے صدقہ میں ہوا تیرا بہت مجھ پہ کرم رحمتوں کے پھر تو دروازے کھلے بے انتہا ہو محمد پر مری جانب سے بس لاکھوں درود ہو سلام ان پر مری جانب سے یارب دائما کر کے پیدا تو نے بھولا مجھ کو اے پروردگار وقت پر میری ہمیشہ تو مدد کرتا رہا بھوک میں کھانا دیا اور پیاس میں پانی مجھے دکھ سہیڑا میں جب تو نے عطا کر دی دوا گرمی و سردی سب اسباب بخشے اے کریم میں بڑھا جتنا ترا احسان بھی بڑھتا گیا جب پڑی گرمی کیا بارش سے تو نے مجھ کو سرد جب ہوئی گھٹس جب ہوئی گھٹس چلا دی تو نے بس فوراً ہوا مجھ کو بخشی تو نے بیوی خاندانی اور شریف نیک خو اور نیک دل خدمتگار و باوفا آل اور اولاد بخشی یار اور ہمدم در دیئے فضل سے بخشا مجھے اپنے امام پارسا مجھ کو مہدی سے ملایا ہے یہ اک فضل عظیم کر نہیں سکتا میں اس کا شکر اے خالق ادا وقت میں میرے کیا نازل مسیح احمدی اور کرم سے اپنے اس کے قرب کا رتبہ دیا ہاتھ پر اس کے دکھائے تو نے وہ عالی نشان اس زمانہ میں کسی کو وہم ہی جن کا نہ تھا باغتا تھا وہ خزانے لے گئے چالاک و چست جس قدر قسمت میں تھا مجھ کو بھی اتنا مل گیا وہ زمانہ خیر کا افسوس جلدی ہو چکا یاد کر کے وہ مزا ہوتا ہوں میں اب بے مزا اس کے سچے دوست جو ہیں ہیں وہ میرے یار غار نیک بخت و با مروت نیک سیرت باحیا