حیاتِ ناصر — Page 86
حیات ناصر 86 آخری بات حضرت میر ناصر نواب صاحب کی زندگی کے مختصر حالات اور کارنامے جو ہمیشہ زندہ اور یادگار زمانہ ر ہیں گے بظاہر میں قلم و کاغذ کے ذریعہ ختم کرتا ہوں مگر سچ یہی ہے کہ میں نے حصول ثواب کے لئے ان کو زندہ رکھنے کا ایک سامان کیا ہے۔مجھے ذاتی طور پر حضرت میر صاحب سے محبت تھی اور یہ اس کا ایک ادنی عملی اظہار ہے۔خدا تعالی کا شکر اور احسان ہے کہ ان کی حیات جسمانی میں بھی اپنے قلم کے ذریعہ ان کے نافع الناس مقاصد میں شریک اور حصہ لینے کی توفیق ملی اور انہوں نے اپنے کرم سے موقع دیا کہ ان کی ہر تحریک میں مادی حیثیت سے بھی شریک ہوں اگر چہ مجھے آج ان کو اپنے درمیان نہ پا کر تکلیف ہوتی ہے لیکن میں اس خدمت کے ادا کرنے پر ایک خوشی محسوس کرتا ہوں۔خدا تعالیٰ ہم سب کو حضرت میر ناصر کی سی جرأت ،صداقت پسندی ،استقلال، مداہنت سے نفرت ، اکل حلال کا شوق ،صوم وصلوٰۃ کی پابندی میں دوام اور سلسلہ حقہ کی تائید اور مخلوق الہی کی نفع رسانی کے لئے ہر قسم کی قربانی کا سچا جذ بہ اور توفیق عطا فرمادے آمین حضرت میر صاحب کے حالات زندگی میں ایک امر میں غالباً بھول گیا ہوں اور وہ یہ ہے کہ آپ نے جماعت میں تجارت اور کسب حلال کی روح پیدا کرنے کے لئے ایک موقع پر مختصری دوکان قادیان میں کھولی تھی اور یہ سب سے پہلی احمدی دوکان تھی۔باوجود ان تعلقات کے جو حضرت مسیح موعود کے ساتھ تھے ایسے زمانہ میں کہ شرفاء اس قسم کی دوکانوں سے عار کرتے بلا خوف لومتہ لائم آپ نے دوکان کر لی اور یہ مہمان خانہ کی اس چھوٹی سی کوٹھڑی میں تھی جس کا دروازہ گلی میں ہے۔آخر میں حضرت میر صاحب کی ایک مناجات پر ہی اسے ختم کر دیتا ہوں اور خدا تعالیٰ سے پھر دعا کرتا ہوں کہ وہ حضرت ناصر کی اس مناجات کو میری دعا سمجھ کر میرے حق میں بھی قبول فرمائے آمین ثم آمین۔خاکسار عرفانی