حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 85 of 104

حیاتِ ناصر — Page 85

حیات ناصر 85 بیعت میں داخل ہوئے۔ان کا ایک دفعہ نیک ظنی کی طرف پلٹا کھانا اور جوش سے بھرے ہوئے اخلاص کے ساتھ حق کو قبول کر لینا غیبی جذبہ سے معلوم ہوتا ہے۔وہ اپنے اشتہار ۱۲ / اپریل ۱۸۹۱ ء میں اس عاجز کی نسبت لکھتے ہیں کہ میں ان کے حق میں بدگمان تھا لہذا وقتا فوقتا نفس و شیطان نے خدا جانے کیا کیا کہوایا مجھ سے ان کے حق میں جس پر آج مجھ کو افسوس ہے اگر چہ اس عرصہ میں کئی بار میرے دل نے مجھے شرمندہ کیا لیکن اسکے اظہار کا یہ وقت مقدر تھا۔میں نے جو کچھ مرزا صاحب کو فقط اپنی غلط فہمیوں کے سبب سے کہا نہایت بُرا کیا۔اب میں تو بہ کرتا ہوں اور اس تو بہ کا اعلان اس لئے دیتا ہوں کہ میری پیروی کے سبب سے کوئی وہال میں نہ پڑے۔اس سے بعد اگر کوئی شخص میری کسی تحریر یا تقریر کو چھپوا وے اور اس سے فائدہ اٹھانا چاہے تو میں عند اللہ بری ہوں اور اگر کبھی میں نے مرزا صاحب کی نسبت اپنے کسی دوست سے کچھ کہا ہو یا شکایت کی ہو تو اس سے اللہ تعالیٰ کی جناب میں معافی مانگتا ہوں۔حضرت میر صاحب کے خاندان کا بہت ہی مختصر تذکرہ حضرت میر صاحب قبلہ کا خاندان باپ اور ماں دونوں کی طرف سے نہایت ذیشان اور صاحب وجاہت ہے اور اس میں جسمانی اور روحانی دونوں خوبیاں موجود ہیں۔حضرت میر ناصر نواب صاحب سندی صحیح النسب سید ہیں اور آپ کے بزرگ حکومت اسلامی میں ایک شاندار اثر اور حصہ رکھتے آئے ہیں۔ایک موقع پر حضرت میر صاحب لکھتے ہیں کہ میرے باپ کا نام ناصر امیر تھا۔ان کے والد کا نام میر ہاشم علی صاحب اس کے بعد مجھے اچھی طرح یاد نہیں کیونکہ غدر میں کل کا غذات گم ہو گئے۔خان دوران خان جو نادرشاہ کے مقابلہ میں شہید ہوئے ہمارے جد امجد کی چوتھی پشت میں تھے پھر ان کا نسب تو مشہور ہے وہ سید کہتے لیکن شاہی خطاب خان تھا۔میرے والد صاحب کے نانا صاحب محمد نصیر عرف حضرت صاحب تھے جن کے نانا حضرت خواجہ میر درد صاحب رحمۃ اللہ علیہ تھے۔اس خاندان کی عظمت اور شرف مسلّم ہے اور دہلی کے تمام شریف خاندانوں میں یہ خاندان ممتاز اور واجب الاحترام یقین کیا گیا ہے۔اس خاندان کی عظمت کا اندازہ اس سے بھی ہوسکتا ہے کہ بعض نوابوں نے ان کو اپنی لڑکیاں دیں جیسے نواب امین الدین خان بہادر والا، بزرگوار نواب علاوالدین بہادر مرحوم والی ریاست لوہارو کی لڑکی حضرت میر ناصر نواب صاحب قبلہ کے بڑے بھائی کو بیاہی ہوئی تھیں۔حضرت خواجہ میر در دصاحب کے روحانی برکات اور فیوض کا سلسلہ بجائے خود بہت وسیع ہے۔غرض ہر طرح سے خدا تعالیٰ نے دین اور دنیا کے لحاظ سے آپ کو شرف دیا تھا اور اب یہ شرف ابدی اور غیر فانی ہے واللہ الحمد۔