حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 43 of 104

حیاتِ ناصر — Page 43

حیات ناصر 43 اصل حقیقت کا اظہار کرے تو پکڑا جاوے۔ہمارے امام نے جس مسلمان فرقہ احمدیہ کی بنیاد ڈالی ہے اس میں اب تک قریباً نصف لاکھ مخلوق الہی داخل ہو چکی ہے اور ہوتی جاتی ہے اور یہ فرقہ اسلام کی اصل تعلیم سیکھتا جاتا ہے۔سب سے پہلے تو تو بہ نصیب ہوتی ہے پھر نماز کی تعلیم ہوتی ہے پرانی نماز نہیں جو تم پڑھا کرتے ہو وہ ٹکریں ہیں۔ہمارے امام نے ایسی نماز سکھائی ہے کہ جس میں غفلت نہیں ہوتی سمجھ کر پڑھنے کا حکم ہے اور سوائے قرآن شریف اور ماثورہ دعاؤں کے اپنی بولی میں بھی جا بجادُعا کا حکم فرماتے ہیں ایک آدھ منٹ میں چار رکعت نہیں پڑھتے۔اسی طرح علم کا اس جماعت میں بڑا چرچا ہے یہاں تک کہ امام کی صحبت کی برکت سے کم علم لوگ بھی اس قدر واقف ہو گئے ہیں کہ مولوی ان سے کنیا تے ہیں اور جان چراتے ہیں اور لاجواب ہو جاتے ہیں اور حیلہ اور حوالہ کر کے گفتگوکو ٹال دیتے ہیں ہماری جماعت میں علی العموم پر ہیز گار لوگ ہوتے ہیں اور دن بدن تقویٰ میں ترقی کرتے جاتے ہیں۔صداقت اور راستی اس فرقہ کا شعار ہے اور حقوق عباد اور حقوق سرکار کے لئے ہمارے امام کی بڑی تاکید ہے اور یہ سب تاثیر امام کی بیعت اور ہمارے امام کی صحبت اور تعلیم کی ہے ابھی تم کہتے ہو کہ تمہارے امام نے کیا کیا عقائد کی اصلاح کی۔غیر اقوام پر اسلام کی حجت اور تبلیغ پوری کی۔جو ان کی جماعت میں داخل ہوتا ہے وہ سچا مسلمان بن جاتا ہے۔رفتہ رفتہ نیک تعلیم دنیا میں پھیلا کرتی ہے انشاء اللہ تعالیٰ وہ زمانہ اب نزدیک ہے کہ بڑا حصہ مسلمانوں کا ہمارا ہوگا اور باقی مخالف ذلیل حالت میں رہ جاویں گے جیسے آجکل چوہڑے چمار وغیرہ ذلیل حالت میں ہیں جو کسی طرح کا دعویٰ نہیں رکھتے بلکہ خادموں کی طرح ذلیل حالت میں بسر اوقات کرتے ہیں۔رہی یہ بات کہ احکام شرعی قطع یدوسنگسار وغیرہ سزائیں کیوں نہیں جاری کیں یہ کام تو بادشاہ خلیفہ کا ہے ہمارے امام آدم، ابراہیم اور عیسے کی طرح خلیفہ ہیں، موسیٰ اور داؤد کی طرح نہیں ، جو بادشاہ خلیفہ ہوتا ہے وہ حدود و قصاص جاری کرتا ہے۔کیا حضرت عیسی نے حدود و قصاص جاری کئے تھے جو ہمارے عیسی و مہدی جاری کریں۔کیا مجدد کے لئے حدود وقصاص کا جاری کرنا شرط ہے اگر شرط ہے تو مجددالف ثانی اور شاہ ولی اللہ صاحب تمہارے نزدیک مجدد نہیں تھے اور امام شافعی اور امام غزالی بھی مجدد نہیں تھے۔اب چاہو تم جھوٹ بولو لیکن تم اور تمہارا سارا خاندان اور تمہارا کل فرقہ ان لوگوں کو مجد دبھی مانتا ہے ظاہر ہے کہ ان لوگوں نے حدود و قصاص جاری نہیں کئے بلکہ خود قوم سے مغلوب تھے اور دل خراش باتیں سنتے تھے۔جیسا تم ہمارے امام کو جھوٹی تہمتیں دیتے ہو ایسا ہی اس وقت کے نااہل ان بزرگوں کو ستاتے تھے اور ان کی شان میں گستاخیاں کرتے تھے ہاں خلاف شرع با تیں تو بہت ہمارے امام نے روکیں۔جس قدران کی