حیاتِ ناصر — Page 32
حیات ناصر 32 کے لئے پوری دلیری اور بے خوفی عطا کی تھی وہاں آپ کا طریق استدلال نہایت صاف اور پر معنے ہوتا تھا اگر چہ آپ کو پلک مناظرہ کرنے کا موقع نہیں ملایعنی مولویانہ شان سے آپ نے مناظرے نہیں کئے لیکن اس میں کوئی شبہ نہیں کہ آپ نے بعض اوقات خط و کتابت کے ذریعہ تحریری مناظرہ کئے ہیں۔ذیل میں آپ کے مکتوب کو محض اس غرض سے دیتا ہوں کہ آپ کی قوت استدلال اور طریق اتمام حجت کا اظہار کر کے آپ کی شان مناظرانہ کو نمایاں کروں۔امید ہے یہ مکتوب انشاء اللہ نہایت موثر اور مفید ہو گا۔یہ خط آج سے ۲۵ برس پیشتر لکھا گیا تھا اور اپنے مخلص اور مکرم مخدوم کی چوتھائی صدی پیشتر کی تحریر کو زندہ رکھتے ہوئے میں خوشی محسوس کرتا ہوں۔بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم از ناصر نواب با خویم مولوی محمد یوسف صاحب۔بعد سلام کے واضح ہو کہ آپ کا دلخراش ظلم وجور سے بھرا ہوا خط پہنچا جس کو پڑھ کر سخت افسوس ہوا۔نہ فقط اس سبب سے کہ آپ نے ہمارے امام علیہ السلام کو بُرا بھلا لکھا ہے بلکہ اس باعث سے بھی کہ امت محمدی کے علماء کا کہاں تک حال پہنچا ہے جن میں نورانیت کے علاوہ معمولی انسانیت بھی نہیں رہی اور ضد و تعصب کے پتلے بن گئے ہیں۔یہی حال پیرزادوں اور مشائخ کا ہے پھر کہتے ہیں کہ اس زمانہ میں کسی مجد داور مصلح کی ضرورت ہی کیا ہے۔سلیم الفطرتی سے بالکل دور جا پڑے ہیں۔صراط مستقیم عقل و دین سے علیحدہ ہو گئے ہیں۔دل ایسے مسخ ہو گئے ہیں کہ نو رونار اور گل و خار کی تمیز باقی نہیں رہی ہے۔اس قدر لکیروں کے فقیر بنے ہیں کہ فہم وفراست سے کام لینے کو گو یا حرام سمجھتے ہیں۔مردوں کی تقلید پر ایسے اڑے ہیں کہ زندوں کا کلام ان کے مرے ہوئے دلوں میں اثر ہی نہیں کرتا۔قرآن وحدیث طوطے کی طرح پڑھتے ہیں غورو نذیر ہرگز نہیں کرتے بلکہ غور ونذیر پچھلوں کا حصہ خیال کرتے ہیں اور کہتے ہیں کہ جو معنے قرآن وحدیث کے پچھلے بزرگوں نے سمجھے خواہ وہ غلط ہوں یا سی انہیں پر چلنا ہمیں کافی ہے۔جس طرح قرآن وحدیث کو وہ بزرگ سمجھ گئے ہیں وہی اللہ تعالیٰ اور رسول کریم صلی اللہ علیہ وسلم کی مراد ہے اب آئندہ ان کے برخلاف جو کوئی اور معنے کرے گا وہ معنے غلط اور وہ شخص گنہگار ہوگا۔پھر پچھلے بھی صحابہ نہیں تابعی نہیں بلکہ جو رسول اللہ صل اللہ علیہ وسلم سے تین سو برس بعد پیدا ہوئے جن کے حق میں حضرت فرما گئے ہیں فیج اعوج لیسوامنی و لست منهم کیونکہ یہ تمام تفاسیر جن پر علماء کا بڑا مدار ہے خیر والقرون کے بعد بنی ہیں اور اکثر احادیث کی کتابیں بھی مدت کے بعد تصنیف ہوئی ہیں اور ان کی شرحیں تو بہت ہی بعد میں گھڑی گئی ہیں۔مفسرین اور محدثین ان کے نزدیک خدا و رسول سے کچھ کم