حیاتِ ناصر — Page 33
حیات ناصر 33 نہیں ہیں۔جن تفاسیر پر ان کا اعتماد ہے ان کا یہ حال ہے کہ الف لیلہ ، طوطا کہانی ، مہا بھارت وقصبہ امیر حمزہ سے بھی زیادہ ان کے بعض اقوال فضول ہوتے ہیں جن کے پڑھنے اور سننے سے ایک مسلمان کو شرم آتی ہے مگر ان کے نزدیک وہ سب اقوال سچے ہیں کیونکہ بڑے فرما گئے ہیں۔انہی تفسیروں میں بعض انبیاء کو حرام کار اور مکار بھی لکھا ہے اور بعض کو مشرک بھی قرار دیا ہے۔ایسے ایسے من گھڑت قصے تفاسیر میں درج ہیں کہ جن کے ذکر سے حیا دامنگیر ہوتی ہے مگر یہ مولوی منبروں پر چڑھ کر وہی لغو قصے آجکل بھی لوگوں کو سناتے ہیں اور مخالفین کو اسلام پر ہنساتے ہیں اور اس پاک مذہب سے غیر قوموں کو متنفر کرتے ہیں اور ایسا ہی حال بعض احادیث کی کتابوں کا ہے اور ان کی شرح کا تو کچھ کہنا ہی نہیں جن کے پڑھنے سے اور بغیر صحیح معنے سمجھنے کے جس کا علم ان علماء میں آجکل مفقود ہے انسان شیطان بن جاتا ہے اور اسلام سے بیزار ہو جاتا ہے اور جو صحیح معنے کرے وہ بقول ان کے کافر ہے جیسے ہمارے امام علیہ السلام۔مفسرین ایک ایک آیت کے بغیر سند کے سوسو معنے کرتے ہیں جن سے سننے والا حیران ہو جاتا ہے کہ اب کس معنے پر اعتبار کرے۔اللہ تعالیٰ فرماتا ہے لو کان مـن عـنـد غـيـر اللـه لوجد وافـيـه اختلافاً کثیراً اور مفسرین کو بغیر اختلاف کثیر کے صبر ہی نہیں آتا اناللہ وانا الیه راجعون۔محدثین بھی احادیث کے تسلی بخش معنے نہیں کرتے جس سے کسی کو پورا اطمینان ہو اور شلج قلب سے قبول کرلے۔ایک طرف تو مولوی کہتے ہیں کہ اللہ تعالیٰ کے خاصے کسی بشر میں نہیں ہوتے اور جو اللہ تعالیٰ کے خاصے ہیں وہ اگر کوئی شخص کسی بشر میں تسلیم کرے تو وہ مشرک ہے اور کافر ہے۔دوسری طرف یہ بھی فرماتے ہیں کہ حضرت عیسی جی و قیوم ہیں، خالد ہیں بھی ہیں ، شافی ہیں، عالم الغیب ہیں وغیرہ۔مزایہ کہ اس کو قرآن شریف سے ثابت کرتے ہیں اور جو نہ مانے وہ کافر۔خلاصہ یہ کہ خدائی خاصہ اگر کسی بشر میں سوائے عیسی کے کوئی مانے تو کافر مشرک لیکن اگر عیسی میں خدائی خاصہ تسلیم نہ کرے تو کافراناللہ وانا الیه راجعون۔ان علماء نے حضرت عیسی کو لیس کمثله شنی بنا رکھا ہے۔پیدا ہوتے ہی باتیں کرتے تھے۔مکس شیطان سے ان کے سوا کوئی نہیں بچا وغیرہ وغیرہ اللہ تعالیٰ فرماتا ہے ان مثل عیسی عندالله كمثل ادم۔مولوی کہتے ہیں عیسی بے مثل و مانند ہیں اللہ تعالیٰ نے ان میں آدم سے نرالی کوئی خصوصیت نہیں بتلائی یہ اپنے گھر سے ان میں پیدا کرتے ہیں۔وہ فرماتا ہے ان عبادی لیس لک علیهم سلطان - مس شیطان کے معنی ہی ان مولویوں کی سمجھ میں نہیں آئے۔لفظ پرست موٹی عقل کے ہیں کسی کے چھونے سے کیا بگڑتا ہے اور شیطان کیا آدمی کی طرح جسم رکھتا ہے کہ بچہ کو ہاتھ لگا دیتا ہے بلکہ مس شیطان سے اس کی وسوسہ اندازی مراد ہے جس سے