حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 84 of 104

حیاتِ ناصر — Page 84

حیات ناصر 84 ایک امت پیدا کرنے کا ارادہ فرمایا ہے اور حضرت مسیح موعود کو اس کا وعدہ دیا اور اس کے ذریعہ اسلام اکناف عالم میں پھیل جاوے گا۔پس یہ تمام برکات حضرت میر صاحب کے لئے بھی موجب خیر و برکت ہوں گی۔پھر آپ کی اولاد نرینہ میں ڈاکٹر سید محمد اسمعیل صاحب اسسٹنٹ سرجن ہیں جن کا نوٹ میں نے اوپر درج کیا ہے۔خدا تعالیٰ نے ان کو ایک ایسافن دیا ہے جو خلوق کی بہتری اور نفع رسانی کا ذریعہ ہے۔ان کے اس عمل خیر کا ثواب بھی حضرت میر صاحب کو لازماً ہوگا۔تیسری زندہ اولاد مولوی فاضل میر محمد اسحاق صاحب ہیں۔وہ اپنے علوم کے ذریعہ نفع پہنچارہے ہیں۔اللہ تعالیٰ ان سب کو حسنات الدنیا اور حسنات الآخرۃ سے متمتع فرمادے۔آمین حضرت مسیح موعود اور حضرت میر صاحب قبلہ حضرت میر صاحب قبلہ کے ساتھ حضرت مسیح موعود کو بہت محبت تھی اور آپ کی خاطر حضور کو ہر طرح ملحوظ ہوتی تھی۔دہلی میں حضرت میر صاحب ۱۹۰۵ء میں بیمار ہو گئے جبکہ حضور دہلی تشریف لے گئے تھے۔حضرت کو سخت تشویش ہوئی اور میر صاحب کے علاج کے لئے حضرت حکیم الامت کو تار دے کر قادیان سے بلایا اور بہت دعا کی تو الہام ہوا’ دست تو دعائے تو اور قبولیت کا اتنا جلد اثر ہوا کہ اس الہام کے ساتھ ہی شفا ہوگئی۔حضرت میر صاحب کی کسی بات کو آپ روڈ نہ فرمایا کرتے تھے۔حضور نے میر صاحب کے متعلق جو کچھ تحریر فرمایا ہے وہ حسب ذیل ہے۔حضرت مسیح موعود نے یوں تو متعدد مرتبہ حضرت میر صاحب قبلہ کے متعلق فرمایا اور اپنی تحریروں کے مختلف مقامات پر آپ کے متعلق اظہار خیالات فرمایا لیکن مستقل طور پر آپ نے ازالہ اوہام میں حسب ذیل تحریر شائع فرمائی۔حتى في اللہ میر ناصر نواب صاحب۔میر صاحب موصوف علاوہ رشتہ روحانی کے رشتہ جسمانی بھی اس عاجز سے رکھتے ہیں کہ اس عاجز کے خسر ہیں۔نہایت یک رنگ اور صاف باطن اور خدا تعالیٰ کا خوف دل میں رکھتے ہیں اور اللہ اور رسول کے اتباع کو سب چیز سے مقدم سمجھتے ہیں اور کسی سچائی کے کھلنے سے پھر اس کو شجاعت قلبی کے ساتھ بلا توقف قبول کر لیتے ہیں۔حُب اللہ اور بغض اللہ کا مومنانہ شیوہ ان پر غالب ہے۔کسی کے راست باز ثابت ہونے سے وہ جان تک بھی فرق نہیں کر سکتے اور کسی کو ناراستی پر دیکھ کر اس سے مداہنت کے طور پر کچھ تعلق رکھنا نہیں چاہتے۔اوائل میں وہ اس عاجز کی نسبت نیک گمان تھے مگر درمیان میں ابتلاء کے طور پر ان کے حسن ظنی میں فرق آ گیا۔چونکہ سعید تھے اس لئے عنایت الہی نے پھر دستگیری کی اور اپنے خیالات سے تو بہ کر کے سلسلہ