حیاتِ ناصر

by Other Authors

Page 2 of 104

حیاتِ ناصر — Page 2

حیات ناصر 2 ابتدائی حالات اور مشکلات حضرت میر ناصر نواب صاحب کی ابتدائی زندگی یتیمی کے اثرات اور گونا گوں مشکلات کا ایک مرقع ہے۔ان کی حالت اس مرغ اسیر سے کسی طرح بھی کم نہ تھی جو اڑنے سے پہلے ہی اسیر صیاد ہو گیا ہو۔پنہاں تھا دام قریب آشیاں کے اُڑنے نہ پائے تھے کہ گرفتار ہم ہوئے حضرت میر صاحب نے داغ یتیمی اور مفلسی کی مشکلات کا آپ صحیح اور صاف الفاظ میں نقشہ کھینچا ہے جس سے ظاہر ہے کہ آپ تکلف اور نمائش سے قطعاً کوئی کام نہ لینا چاہتے تھے۔آپ نے پسند نہیں کیا کہ واقعات صحیحہ کو چھپانے کی کوشش کریں۔یہ امر آپ کی راستبازی اور صداقت پسندی کی ایک زبر دست دلیل ہے۔بہر حال فرماتے ہیں۔زمانہ بھی عجیب چیز ہے ایک زمانہ تھا میں نہ تھا پھر ایک زمانہ آیا کہ میں پیدا ہوا اور دلی شہر میں جنم لیا۔خواجہ میر درد صاحب علیہ الرحمہ کے گھرانے میں پیدا ہو کر نشو و نما پایا اور ان کی بارہ دری میں کھیل کود کر بڑا ہوا۔ان کی مسجد میں پڑھا کرتا تھا۔ماں باپ کے سایہ میں پرورش پارہا تھا کوئی فکر و اندیشہ دامنگیر نہ تھا کہ ناگہاں میرے حال میں ایک تبدیلی پیدا ہوئی جس کا بظا ہر کسی کو وہم و گمان بھی نہ تھا اتفاقا میرے والد ماجد کسی کام کے لئے بنارس تشریف لے گئے اور شاہ آباد آرہ میں ہیضہ سے ان کا انتقال ہو گیا اور میں مع اپنی دو ہمشیرہ کے یتیم رہ گیا اور میری والدہ حالت جوانی میں بیوہ رہ گئیں انا لله و انا اليه راجعون۔سامان معیشت بظاہر کچھ نہ رہا فقط اللہ ہی کا آسرا تھا۔دادا صاحب اگر چہ موجود تھے مگر وہ اسی سالہ ضعیف تھے اور کچھ جائیداد بھی نہ رکھتے تھے اور جو جائیداد تھی وہ ہمارے خاندان سے جا چکی تھی اور مفلس محض رہ گئے تھے اس پر ظاہر آراستہ رکھنا بھی ضروری تھا۔ایک سوتیلے بھائی صاحب کچھ آسودہ حال تھے انہوں نے توجہ نہ فرمائی کیونکہ عرب کا خون پھیکا پڑ گیا تھا۔نانا صاحب نے کفالت اختیار کی اور ماموں صاحب نے ہم سب کا بوجھ اُٹھایا۔اللہ تعالیٰ انہیں جنت نصیب کرے آمین۔غدر کی درد ناک کہانی ، خاندانی مصائب میں اضافہ یتیمی کے صدمات سے ہنوز مخلصی نہ ہوئی تھی اور بے پدری کا غم نہ بھولا تھا کہ یکا یک دنیا میں ایک اور سخت تبدیلی پیدا ہوئی کہ اکثر لوگ تخت سے تختہء زمین پر گر پڑے اور اہل وطن پر ایک تازہ بلا نازل ہوئی یعنی ۱۸۵۷ء میں غدر تشریف لے آیا۔انگریزی فوج نے کسی جھگڑے پر سرکار سے بغاوت اختیار کی اور ہندوستان کی