حیاتِ ناصر — Page 1
حیات ناصر 1 بسم الله الرحمن الرحيم نحمده ونصلى على رسوله الكريم حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ حضرت میر ناصر نواب صاحب رضی اللہ عنہ کے تذکرہ کے ساتھ میں حضرت مسیح موعود علیہ الصلوۃ والسلام کے صحابہ کے سوانح و سیرۃ کے سلسلہ کو شروع کرتا ہوں اور ناصر کے نام سے تفاؤل لیتا ہوا۔خدا تعالیٰ کے فضل اور نصرت کی دعا کرتا ہوں۔حضرت میر صاحب رضی اللہ عنہ کے سوانح زندگی شروع کرنے سے پہلے میں یہ بتا دینا چاہتا ہوں کہ حالات زندگی کا ایک اجمالی بیان خود حضرت موصوف نے آج سے پندرہ برس پیشتر لکھا تھا اور میں نے تحدیث نعمت بزبان ناصر کے عنوان سے اسے شائع کر دیا تھا۔آپ کی وفات کے بعد حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے صحابہ کے عنوان سے الحکم میں جو سلسلہ میں لکھ رہا تھا اس کے تحت حضرت نانا جان کے حالات میں نے اپنے علم اور ذاتی تجربہ کی بناء پر لکھے۔اس لئے کہ عرصہ دراز سے خود مجھے حضرت موصوف سے سعادت شناسائی حاصل ہو چکی تھی۔اب جبکہ میں کتابی صورت میں حالات صحابہ ترتیب دے رہا ہوں حضرت میر صاحب کے خود نوشت تذکرہ ( آٹو بایوگرافی) کے ساتھ اپنے ان مقالہ جات کو بھی شامل کر دیتا ہوں جو اس خصوص میں میں نے لکھے تھے۔جہاں میں نے مناسب سمجھا ہے ترتیب میں مناسب تبدیلیاں بھی کر دی ہیں۔حضرت میر صاحب کی زندگی میں ان کے تو کل اور الہی دستگیری کے عجیب وغریب کرشمے نظر آتے ہیں کس طرح پر انہوں نے خدا تعالیٰ کی رضاء کے لئے ایثار نفس اور قربانی سے کام لیا ہے اور خدا تعالیٰ کے مامور ومرسل حضرت مسیح موعود علیہ السلام کے ساتھ تعلق ورشتہ نے انہیں کس طرح پر زندہ جاوید بنا دیا ہے۔میں اب کسی لمبی تمہید کے بغیر حیات ناصر کا آغاز کرتا ہوں وباللہ التوفیق۔حیات ناصر بزبان ناصر اے دوستو! ناصر کی کہانی سن لو ہے اس پہ خدا کی مہربانی سن لو ہر چیز کو ہے موت و تغیر در پیش مولی کی ہے ذات جاودانی سن لو