حیاتِ ناصر — Page 82
حیات ناصر 82 جھجکتے تھے اور نہایت صاف گوئی سے ہر مجلس میں اپنے خیالات ظاہر فرما دیتے اور اگر چہ کسی وقت سختی بھی کر لیا کرتے تھے مگر دل میں قطعاً کینہ اور غبار نہ رکھتے تھے۔تیسرے۔یہ کہ محنت اور مشقت اور سختی برداشت کرنے کی ہمیشہ سے عادت تھی۔اس کی گواہ تمام جماعتیں ہیں اور ہمیشہ اپنے تئیں سلسلہ کے کاموں میں مصروف ہی رکھتے تھے۔در بدر بھیک کی طرح پیسے مانگتے پھر نا یہاں تک کہ جب نور ہسپتال کے لئے چندہ جمع کیا تو چوہڑوں کے گھر جا کر بھی مانگنا اور اسے کوئی ذلت نہ سمجھنا ایک قابل تقلید مثال ہے۔چوتھے۔استقلال بھی آپ کا ایک نمایاں خلق تھا جس کام کو شروع کرتے ختم کئے بغیر نہ ٹھہر تے تھے چنانچہ مسجد نور، شفاخانه ، دور الضعفاء، احمدی بازار کا پختہ فرش اور قبرستان وغیرہ آپ کی ظاہری باقیات الصالحات ہیں۔پانچویں۔ایک صفت آپ کی سخاوت اور غریبوں کی خبر گیری تھی۔ہمیشہ نقدی اور کپڑوں سے غرباء کی امداد کرتے رہنا آپ کی عادت میں داخل تھا۔پر واضح ہے۔چھٹے۔دوسروں کے لئے بالالتزام دعا کرنا اور ان کی ہمدردی اور خیر خواہی میں مشغول رہنا اکثر دوستوں ساتویں۔پابندی نماز روزہ اور احکام شریعت کا کمال اہتمام آپ کی طبیعت ثانیہ ہو گیا تھا اور قال اللہ اور قال الرسول پر شدت سے عمل کرتے اور کراتے تھے۔آپ ۱۸۹۴ء سے جب آپ کی عمر ۴۹ سال کی تھی قادیان میں مستقل رہائش کے لئے تشریف لائے اور ۳۰ سال کامل یہاں سکونت رکھ کر ۱۹۲۴ ء میں محبوب حقیقی سے جاملے۔میں احباب جماعت احمدیہ سے درخواست کرتا ہوں کہ مرحوم کا جنازہ پڑھیں اور ان کے علو مراتب اور مغفرت کے لئے دعا فرماویں۔فاذكروا الله كذكركم آباء کم او اشد ذکرا یہ باتیں جو میں نے بیان کی ہیں محض اللہ تعالیٰ کے ہی فضل سے ان کو حاصل ہوئی تھیں۔اس کا کتنا بڑا فضل ہے کہ ایک شخص کو دہلی سے نکال کر پنجاب لایا اور اس کا تعلق مسیح موعود جیسے شخص سے کرایا اور پھر اس کی صحبت اور قرب بخشا، ایمان دیا، فطرقی قولی نیکی کے لئے عنایت کئے ، خود توفیق دی اور خود ہی سامان مہیا کئے اور انجام کار بہشتی مقبرہ میں حضرت صاحب سے بہت قریب جگہ