حیاتِ ناصر — Page 81
حیات ناصر 81 میں چونکہ یہاں موجود نہ تھا بلکہ حضرت کے ہمراہ لنڈن گیا ہوا تھا اس لئے مجھے یہ صدمہ ہمیشہ رہے گا کہ ایسے بزرگ سلسلہ کی آخری وقت شکل نہ دیکھ سکا اور آپ کی تربت پر مٹی ڈالنے کی توفیق نہ پاسکا۔آپ کی وفات اور مرض الموت کے حالات میں صرف اسی قدر لکھ دینا چاہتا ہوں جو مکرمی ڈاکٹر میر محمد اسمعیل صاحب خلف الرشید حضرت میر صاحب نے لکھے ہیں۔ان میں حضرت میر صاحب کی سیرۃ کا بھی کچھ ذکر ہے جس کو میں خود بھی لکھ چکا ہوں تا ہم میں اسے مکرر لکھنے میں بھی خوشی محسوس کرتا ہوں۔وھوھذا جماعت کے احباب کو حضرت والد مکرم مرحوم یعنی جناب میر ناصر نواب صاحب کی وفات کی خبر مل چکی ہے۔آپ نے 9 بجے صبح جمعہ کے دن بتاریخ ۱۹رستمبر ۱۹۲۴ء وفات پائی۔آپ کی عمر وفات کے وقت بحساب انگریزی ۷۹ سال اور بحساب ہجری ۸۱ سال سے کچھ متجاوز تھی۔ڈیڑھ سال کے قریب سے آپ ضعف اعصاب سے بیمار تھے مگر چلنا پھرنا بند نہیں ہوا تھا۔آخر دنوں میں ملیریا بخار آنے لگا۔دوا سے آرام ہو جا تا تھا مگر پھر کئی کئی دن چھوڑ کر باری آجاتی تھی۔آخری باری سردی سے بدھ کے دن عصر کے بعد آئی پھر غفلت ہوگئی اور آخر میں بے ہوشی اور تیسرے دن جمعہ کو اسی غفلت میں انتقال فرمایا۔آپ کی چند خاص باتیں قابل تذکرہ ہیں۔اول۔اکل حلال اس کے آپ تمام عمر اس قوت اور سختی سے پابندر ہے کہ دوست اور دشمن دونوں اس پر گواہ ہیں۔میرا مطلب یہاں صرف ان کی تعریف کرنا ہی نہیں بلکہ میں اپنے احباب کو خاص طور پر اس ضرورت کی بابت توجہ دلانا بھی چاہتا ہوں۔اکل حلال ایک بہت ہی مشکل امر ہے خصوصاملازمین سرکار کے لئے اور ان سے کم درجہ پر اہل حرفہ اور تاجروں کے لئے اور زمینداروں کے لئے بھی اپنی تمام آمدنی اور تمام خورد و نوش کو صرف حلال اور طیب طور پر محصور کر لینا ایک سخت مجاہدہ ہے۔رسول کریم صل اللہ علیہ وسلم نے فرمایا ہے کہ حرام کا لقمہ قبولیت دعا میں مانع ہوتا ہے پس اس طرف انسان کو بہت ہی توجہ دینی چاہیئے کہ آیا جو اس کے ہاں آتا ہے اور جو اس کے اور اس کی آل اولاد کے حلق کے نیچے اترتا ہے وہ رزق حلال اور طیب ہے یا مشتبہ اور نا جائز۔جب تک حرام اور مشتبہ رزق انسان کے بدن میں داخل ہوتا رہے گا نہ اس کی دعا قبول ہوگی اور نہ اس سے عمل صالح صادر ہوں گے۔دوسری بات جس میں مرحوم کو ایک امتیاز حاصل تھا وہ ان کی جرات ایمانی اور نفاق سے نفرت کی صفت تھی۔آپ کو فطر تا مداہنت سے سخت بیزاری تھی اور دوست ، دشمن، واقف ناواقف کسی کے آگے حق گوئی سے نہ